Business
امریکی بانڈز کی پیداوار 19 سالہ بلند ترین سطح پر، معاشی اثرات
امریکہ کا 10 سالہ ٹریژری ییلڈ 2007 کے عالمی مالیاتی بحران کے بعد پہلی بار 5.02 فیصد کی سطح پر پہنچ گیا۔ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کے بعد سرمایہ کاری کے رجحانات میں نمایاں تبدیلی دیکھی جا رہی ہے۔
امریکہ میں معاشی صورتحال کے حوالے سے ایک اہم پیشرفت سامنے آئی ہے جہاں بینچ مارک امریکی حکومت کے بانڈز کی پیداوار یعنی ییلڈ میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ منگل کے روز امریکہ کا 10 سالہ ٹریژری ییلڈ بڑھ کر 5.02 فیصد کی سطح پر جا پہنچا۔ معاشی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو سال 2007 کے عالمی مالیاتی بحران کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ بانڈز کی پیداوار اس بلند ترین سطح پر پہنچی ہے۔ عالمی منڈیوں میں اس تبدیلی کو بہت اہمیت دی جا رہی ہے کیونکہ اس کا براہ راست اثر عالمی معیشت اور سرمایہ کاری کے رجحانات پر پڑتا ہے۔
اس اضافے کی ایک بڑی وجہ عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں ہونے والا حالیہ تسلسل کے ساتھ اضافہ بھی ہے۔ ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتیں مہنگائی کے دباؤ کو مزید طویل کر سکتی ہیں، جس کی وجہ سے مرکزی بینکوں کو شرح سود طویل عرصے تک بلند رکھنے پر مجبور ہونا پڑ سکتا ہے۔ سرمایہ کار اس صورتحال کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں کیونکہ بانڈز کی بلند پیداوار اسٹاک مارکیٹ اور دیگر رسک والے اثاثوں سے سرمایہ نکال کر محفوظ سرکاری سیکیورٹیز کی طرف منتقل کرنے کا سبب بنتی ہے۔
امریکہ کے مالیاتی اداروں اور بانڈ مارکیٹ کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ رجحان آنے والے دنوں میں قرض لینے کی لاگت کو مزید مہنگا کر دے گا۔ اس سے نہ صرف امریکی معیشت بلکہ عالمی سطح پر قرض لینے والے ممالک اور کاروباری اداروں پر بھی بوجھ بڑھے گا۔ فیڈرل ریزرو کے آئندہ فیصلوں پر اب تمام معاشی ماہرین کی نظریں مرکوز ہیں کہ وہ مہنگائی اور ان بڑھتے ہوئے بانڈ ییلڈز کے درمیان توازن کیسے قائم کرتے ہیں۔
مجموعی طور پر، یہ معاشی منظرنامہ عالمی مالیاتی منڈیوں میں ایک نئے دور کی عکاسی کرتا ہے جہاں مہنگائی کے خاتمے کے لیے سخت مالیاتی پالیسیاں اب بھی نافذ العمل ہیں۔ کاروباری حلقے اور سرمایہ کار اس غیر یقینی صورتحال میں اپنے پورٹ فولیو کو محفوظ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ بڑے معاشی جھٹکے سے بچا جا سکے۔