LIVE
Loading Breaking News...

محمود خلیل کا کولمبیا یونیورسٹی پر مقدمہ، ادارہ جاتی نسل پرستی کے الزامات

News Image
فلسطین کے حامی طالب علم اور کارکن محمود خلیل نے کولمبیا یونیورسٹی اور اس کے ڈین کے خلاف مقدمہ درج کرا دیا ہے۔ مقدمے میں انتظامیہ پر فلسطینی طلباء کو نشانہ بنانے اور ادارہ جاتی نسل پرستی کا الزام عائد کیا گیا ہے۔
نیویارک: فلسطین کے حامی ممتاز طالب علم اور کارکن محمود خلیل نے کولمبیا یونیورسٹی اور اس کے ڈین کے خلاف باضابطہ طور پر عدالت میں مقدمہ دائر کر دیا ہے۔ اس مقدمے میں یونیورسٹی کی انتظامیہ پر سنگین نوعیت کے الزامات عائد کیے گئے ہیں جن میں خاص طور پر فلسطینی حامی طلباء کے خلاف ادارہ جاتی نسل پرستی اور امتیازی سلوک روا رکھنے کی بات کہی گئی ہے۔ محمود خلیل کی جانب سے دائر کی جانے والی اس قانونی چارہ جوئی نے امریکہ کی اعلیٰ تعلیمی درسگاہوں میں جاری کشیدگی اور آزادی اظہار رائے کے تنازعات کو ایک بار پھر سرخیوں میں لا کھڑا کیا ہے۔ مقدمے کے متن کے مطابق، یونیورسٹی انتظامیہ نے کیمپس میں فلسطین کے حق میں آواز اٹھانے والے طلباء کو منظم طریقے سے نشانہ بنایا۔ مدعی کا دعویٰ ہے کہ انتظامیہ کی جانب سے ایسے اقدامات کیے گئے جن کا مقصد طلباء کے بنیادی حقوق کو سلب کرنا اور فلسطینی کاز کی حمایت کرنے والوں کو ہراساں کرنا تھا۔ اس قانونی اقدام کے بعد کولمبیا یونیورسٹی پر دباؤ میں مزید اضافہ ہو گیا ہے جو پہلے ہی گزشتہ مہینوں میں ہونے والے بڑے پیمانے پر طلباء احتجاج اور پولیس کریک ڈاؤن کی وجہ سے خبروں کی زد میں تھی۔ محمود خلیل اور ان کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ یونیورسٹی کے اندر تعلیمی ماحول کو ایک خاص طبقے کے خلاف استعمال کیا گیا اور امتیازی پالیسیوں کے ذریعے طلباء کے مستقبل کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی۔ قانونی ٹیم کا کہنا ہے کہ اس مقدمے کا مقصد نہ صرف متاثرہ طلباء کو انصاف دلانا ہے بلکہ مستقبل میں تعلیمی اداروں کے اندر کسی بھی قسم کے ادارہ جاتی تعصب اور نسل پرستی کو روکنے کے لیے ایک مضبوط مثال قائم کرنا بھی ہے۔ دوسری جانب، اس مقدمے کے سامنے آنے کے بعد کولمبیا یونیورسٹی کے حلقوں میں ہلچل مچ گئی ہے اور ماہرین قانون اس مقدمے کے ممکنہ نتائج کا بغور جائزہ لے رہے ہیں۔ توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ یہ قانونی جنگ آنے والے دنوں میں مزید طویل ہوگی اور اس کے امریکی یونیورسٹیوں میں طلباء کے حقوق اور آزادی اظہار پر دور رس اثرات مرتب ہوں گے۔ مقدمے کی سماعت کے دوران دونوں فریقین کی جانب سے مزید شواہد اور دلائل پیش کیے جانے کا امکان ہے۔