World
بیلاروس کا عدالتی نظام مخالفین کے خلاف استعمال ہونے کا انکشاف
اقوام متحدہ کے ماہرین نے انکشاف کیا ہے کہ بیلاروس میں عدالتی نظام، پولیس اور سکیورٹی ادارے حکومتی ناقدین کو خاموش کرنے کے لیے ایک ساتھ کام کر رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ ادارے صدر الیگزینڈر لوکاشینکو کے مخالفین کو منظم طریقے سے نشانہ بنا رہے ہیں۔
اقوام متحدہ کے ماہرین نے حال ہی میں ایک اہم بیان جاری کیا ہے جس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ بیلاروس کا پورا عدالتی نظام اور ریاستی مشینری صدر الیگزینڈر لوکاشینکو کے سیاسی مخالفین کو کچلنے اور انہیں خاموش کرنے کے لیے استعمال کی جا رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق ملک میں انصاف کے تقاضے پورے کرنے کے بجائے اداروں کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق بیلاروس میں عدالتیں، پولیس، سکیورٹی سروسز، پراسیکیوٹرز اور جیلوں کا نظام باہم مل کر حکومتی پالیسیوں پر تنقید کرنے والوں کو نشانہ بناتے ہیں۔ اس گٹھ جوڑ کا مقصد ملک میں کسی بھی قسم کی مخالفت کی آواز کو سختی سے کچلنا اور سیاسی جبر کو قانونی رنگ دینا ہے تاکہ عام شہریوں میں خوف کی فضا قائم رکھی جا سکے۔
بین الاقوامی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے بیلاروس کے اس رویے پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بیلاروس میں بنیادی انسانی حقوق، آزادیِ اظہار رائے اور منصفانہ ٹرائل کے حق کو پامال کیا جا رہا ہے، جس سے ملک میں قانون کی حکمرانی کا جنازہ نکل چکا ہے۔
اقوام متحدہ کے متعلقہ اداروں نے بیلاروس کی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ فوری طور پر سیاسی بنیادوں پر بنائے گئے مقدمات کو ختم کرے اور عدلیہ کو سیاسی مداخلت سے آزاد کرائے۔ ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ سیاسی مخالفین کی بلاجواز گرفتاریوں اور سزاؤں کا سلسلہ بند ہونا چاہیے تاکہ ملک میں بنیادی جمہوری اقدار کو بحال کیا جا سکے۔