LIVE
Loading Breaking News...

خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ، سعودی برآمدات اور لیبیا کی بندش اثرانداز

News Image
سعودی عرب میں تیل کی برآمدات معطل ہونے اور لیبیا میں پیداوار رک جانے کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں تقریباً تین ڈالر فی بیرل کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ توانائی کی عالمی منڈی میں رسد کے بحران اور سپلائی کے خدشات کے پیش نظر سرمایہ کاروں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔
عالمی منڈی میں توانائی کی سپلائی کے حوالے سے پیدا ہونے والے شدید خدشات کے نتیجے میں خام تیل کی قیمتوں میں تقریبا تین ڈالر فی بیرل کا نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ اس تیزی کی بنیادی وجہ سعودی عرب میں تیل کی برآمدات کا عارضی طور پر معطل ہونا اور لیبیا میں پیداوار کا تعطل بتائی جا رہی ہے، جس نے دنیا بھر میں توانائی کی رسد کے نظام کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ سپلائی کے ان مسائل کی وجہ سے آنے والے دنوں میں عالمی معیشت پر مزید دباؤ بڑھ سکتا ہے اور تیل کی درآمد کرنے والے ممالک کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اطلاعات کے مطابق، سعودی عرب میں پائپ لائنز کو پہنچنے والے نقصانات اور سیکورٹی خدشات کے باعث تیل کا بہاؤ بری طرح متاثر ہوا ہے، جس کے اثرات فوری طور پر بین الاقوامی منڈیوں میں دیکھے گئے۔ دوسری طرف، لیبیا میں جاری اندرونی کشیدگی اور سیاسی بحران کی وجہ سے بھی تیل کی پیداوار اور برآمدات میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے، جس نے رسد کے بحران کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ چین میں بھی خام تیل کے سودوں اور فیوچرز میں ریکارڈ تیزی دیکھنے میں آئی ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ایشیائی منڈیوں میں بھی توانائی کی قلت کا خوف شدت اختیار کر رہا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر صورتحال جلد کنٹرول میں نہ آئی اور سپلائی بحال نہ کی گئی تو تیل کی قیمتیں مزید اوپر جا سکتی ہیں، جس سے دنیا بھر میں مہنگائی کا ایک نیا طوفان آ سکتا ہے۔ مرکزی بینکوں اور حکومتوں کی جانب سے اس صورتحال پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے تاکہ عالمی اقتصادی ترقی کے اہداف کو متاثر ہونے سے بچایا جا سکے، تاہم فی الحال مارکیٹ میں غیر یقینی کی فضا بدستور قائم ہے۔