LIVE
Loading Breaking News...

جماعت اسلامی اور حکومتی ایندھن ریلیف اقدامات کی تازہ ترین صورتحال

News Image
جماعت اسلامی نے حکومت کی طرف سے ایندھن کی قیمتوں میں دی جانے والے ریلیف کے اقدامات کا خیرمقدم کیا ہے۔ دوسری جانب وفاقی حکومت نے مہنگائی اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے خلاف احتجاج کرنے والے کسانوں اور سیاسی جماعتوں سے مذاکرات کا فیصلہ کیا ہے۔
جماعت اسلامی پاکستان نے حکومت کی طرف سے ایندھن اور توانائی کے شعبے میں متعارف کروائے جانے والے ریلیف کے اقدامات کا مثبت انداز میں خیرمقدم کیا ہے۔ سیاسی حلقوں میں اس فیصلے کو ایک اہم پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے، جس کا مقصد مہنگائی کے اس دور میں عام آدمی کو کسی حد تک ریلیف فراہم کرنا ہے۔ تاہم، اس معاملے پر مختلف جماعتوں اور حلقوں کے متفقہ ردعمل کے بعد سیاسی فضا میں گہما گہمی بڑھ گئی ہے اور حکومتی سطح پر رابطوں کا سلسلہ بھی تیز کر دیا گیا ہے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق، ملک بھر میں پیٹرولیم لیوی اور دیگر مطالبات کے پیش نظر ممکنہ احتجاجی مظاہروں سے نمٹنے کے لیے اب سیاسی جماعتوں اور کسان اتحادوں سے براہ راست رابطہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں اہم حکومتی شخصیات نے جماعت اسلامی کے رہنماؤں سے بھی رابطے کیے ہیں تاکہ آئندہ کے لائحہ عمل پر بات چیت کی جا سکے اور ملک میں مزید احتجاجی تحریکوں کو روکا جا سکے، کیونکہ احتجاج معیشت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ دوسری جانب، سیاسی اور پارلیمانی سطح پر بھی اس بحران کے حل کے لیے آوازیں بلند ہو رہی ہیں۔ حال ہی میں سندھ اسمبلی نے ایک متفقہ قرارداد منظور کی ہے جس میں وفاقی حکومت سے پرزور مطالبہ کیا گیا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کی جائے تاکہ صوبے کے عوام بالخصوص کسان اور ٹرانسپورٹرز مہنگائی کے بوجھ سے سبکدوش ہو سکیں۔ یہ قرارداد اس بات کی غماز ہے کہ تمام سیاسی قوتیں عوامی مسائل پر یکجا ہو رہی ہیں۔ موجودہ حالات میں جب ملک کو شدید معاشی چیلنجز کا سامنا ہے، حکومت اور اپوزیشن یا دیگر سیاسی جماعتوں کے درمیان بات چیت کے دروازے کھلنا خوش آئند ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر حکومت جماعت اسلامی اور کسانوں کے مطالبات پر سنجیدگی سے غور کرے اور مذاکرات کے ذریعے کوئی درمیانی راستہ نکال لیا جائے، تو ملک کو ایک اور ممکنہ بڑے سیاسی بحران اور شٹ ڈاؤن سے بچایا جا سکتا ہے۔