LIVE
Loading Breaking News...

طلبا میں تعلیمی بے چینی اور ڈپریشن کی وجوہات

News Image
پندره سال کی عمر میں تعلیمی دباؤ کا شکار ہونے والے طلبا میں مستقبل میں ڈپریشن کی علامات ظاہر ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ ہمارا موجودہ نظامِ تعلیم بچوں میں غیر ضروری خوف اور بے چینی پیدا کر رہا ہے۔
آج کے دور میں طلبا شدید تعلیمی دباؤ اور بے چینی کا شکار نظر آتے ہیں، اور اس صورتحال میں کوئی تعجب کی بات نہیں ہونی چاہیے کیونکہ ہمارا موجودہ نظامِ تعلیم ہی انہیں اسی راستے پر گامزن کر رہا ہے۔ پندرہ سال کی کم عمر میں نمبروں کے حصول اور اکیڈمک کامیابی کا جو دباؤ بچوں پر ڈالا جاتا ہے، وہ ان کی ذہنی صحت پر گہرے اور منفی اثرات مرتب کرتا ہے۔ نئی طبی و نفسیاتی تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ اس عمر میں پیدا ہونے والی تعلیمی بے چینی اکثر جوانی اور مستقبل کی زندگی تک برقرار رہتی ہے، جو ڈپریشن جیسی سنگین بیماریوں کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ والدین اور اساتذہ کی طرف سے کامیابی کا مسلسل دباؤ بچوں کو سکون کا سانس لینے کا موقع نہیں دیتا، جس کی وجہ سے وہ ہر وقت کسی نہ کسی نفسیاتی دباؤ میں مبتلا رہتے ہیں۔ تعلیم کا اصل مقصد ذہنی صلاحیتوں کو ابھارنا اور سیکھنے کے عمل کو خوشگوار بنانا ہونا چاہیے، نہ کہ بچوں کو امتحان کی چکی میں پیسنا۔ جب ہم بچوں کو صرف رٹہ لگانے اور مقابلے کی دوڑ میں آگے رہنے پر مجبور کرتے ہیں، تو ہم نادانستہ طور پر ان کے اندر ناکامی کا خوف اور دائمی بے چینی پیدا کر رہے ہوتے ہیں۔ وقت آ گیا ہے کہ تعلیمی ماہرین اور پالیسی ساز اس بات پر غور کریں کہ اسکولوں کا ماحول کس طرح بہتر بنایا جائے تاکہ طلبا ذہنی دباؤ سے آزاد ہو کر پرسکون ماحول میں تعلیم حاصل کر سکیں۔