World
امریکی جج کا غیر ملکی طلباء اور صحافیوں کے ویزا قوانین سے متعلق بڑا فیصلہ
ایک امریکی عدالت نے تارکین وطن سے متعلق اس فیصلے کو روک دیا ہے جس کے تحت غیر ملکی طلباء اور صحافیوں کے امریکہ میں قیام کی مدت محدود کی جا رہی تھی۔ اس قانونی جنگ میں بائیس ریاستوں نے گرین کارڈ کے قوانین کو چیلنج کیا تھا۔
امریکہ میں ایک وفاقی جج نے ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے ان سخت قوانین کو عارضی طور پر معطل کر دیا ہے جن کے تحت ملک میں مقیم غیر ملکی طلباء، ایکسچینج وزٹرز اور غیر ملکی صحافیوں کے قیام کی مدت کو محدود کیا جا رہا تھا۔ اس عدالتی فیصلے کو بین الاقوامی طلبا اور ذرائع ابلاغ کے حلقوں میں ایک بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے جو طویل عرصے سے نئی ویزا پابندیوں کے باعث شدید بے یقینی کا شکار تھے۔ اس قانون سے متاثرہ فریقین کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے تعلیمی اداروں اور میڈیا کی آزادی پر منفی اثرات مرتب ہو رہے تھے۔
اس مقدمے کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ کم از کم بائیس امریکی ریاستوں نے مشترکہ طور پر اس پالیسی کے خلاف قانونی جنگ لڑی اور گرین کارڈ کے متنازع قوانین کو بھی چیلنج کیا۔ ریاستوں کے اٹর্نی جنرلز کا مؤقف تھا کہ انتظامیہ کا یہ یکطرفہ فیصلہ ملکی معیشت، تعلیمی اداروں کے تنوع اور عالمی ساکھ کے لیے نقصان دہ ہے۔ بین الاقوامی گریجویٹ طلباء پہلے ہی ویزا کی نئی پابندیوں کی وجہ سے تحقیقی سرگرمیوں اور ملازمت کے مواقع کے حوالے سے شدید مشکلات کا سامنا کر رہے تھے، جس پر اس عدالتی حکم سے فی الحال کچھ ریلیف ملا ہے۔
دوسری جانب بین الاقوامی فیڈریشن آف جرنلٹس (IFJ) اور دیگر پریس فریڈم تنظیموں نے بھی عدالت کے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔ ان تنظیموں کا کہنا تھا کہ غیر ملکی صحافیوں کے لیے امریکہ میں قیام کی مدت کو من مانے طریقوں سے کم کرنا آزادی صحافت کے بنیادی اصولوں کے منافی ہے۔ اگرچہ انتظامیہ کی طرف سے اس معاملے پر مزید قانونی چارہ جوئی کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، تاہم موجودہ عدالتی فیصلے نے ہزاروں متاثرہ افراد کو وقتی طور پر بڑی راحت فراہم کر دی ہے۔