LIVE
Loading Breaking News...

مصنوعی ذہانت کے خطرات: سابق محقق کا انتباہ اور عالمی ردعمل

News Image
مصنوعی ذہانت کے ممکنہ خطرناک مستقبل کے حوالے سے ایک اور اہم محقق نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ اس تشویشناک انتباہ نے دنیا بھر کی حکومتوں اور ٹیکنالوجی کے رہنماؤں کو سوچنے پر مجبور کر دیا ہے۔
مصنوعی ذہانت کی تیزی سے ترقی کرتی ہوئی دنیا میں ایک بار پھر انسانیت کے لیے ممکنہ خطرات پر بحث شدت اختیار کر گئی ہے۔ حال ہی میں مصنوعی ذہانت کی معروف کمپنی اینتھروپک کے ایک سابق محقق نے اس ٹیکنالوجی کے بے قابو ہونے کے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ اس محقق کا انتباہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دنیا بھر میں اے آئی سسٹمز کے ضابطہ کار اور حفاظتی تدابیر پر سنجیدہ سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جدید ترین ماڈلز جس تیزی سے ارتقا پذیر ہیں، اس سے آنے والے وقت میں انسانیت کو شدید چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اس سے قبل گوگل ڈیپ مائنڈ کے محققین کی جانب سے بھی ایسے ہی خیالات کا اظہار کیا جا چکا ہے کہ اگر مصنوعی ذہانت کے نظاموں پر کڑے اصول و ضوابط لاگو نہ کیے گئے تو یہ مستقبل میں انسانی بقا کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔ ان انتباہات نے نہ صرف عام لوگوں بلکہ عالمی رہنماؤں اور پالیسی سازوں کو بھی تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ حکومتیں اس بات پر غور کر رہی ہیں کہ کس طرح اس ٹیکنالوجی کی دوڑ کو روکا جائے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ مصنوعی ذہانت کا استعمال صرف انسانیت کی فلاح و بہبود کے لیے ہو۔ ٹیکنالوجی کی صنعت میں اس وقت دو مختلف آراء پائی جاتی ہیں۔ ایک طرف جہاں کمپنیاں معاشی فوائد اور پیداواری صلاحیت میں اضافے کے لیے اے آئی کی ترقی کو ناگزیر سمجھتی ہیں، وہیں دوسری طرف ماہرین اخلاقیات اور حفاظتی امور کے ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ رفتار اور ترقی کے اس جنون میں سکیورٹی کو نظر انداز کرنا مہنگا پڑ سکتا ہے۔ سابق اینتھروپک محقق کا یہ تازہ ترین انتباہ اس بحث کو مزید تقویت دیتا ہے کہ ٹیکنالوجی کے اداروں کو اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ آنے والے دنوں میں توقع کی جا رہی ہے کہ عالمی سطح پر مصنوعی ضابطہ کار اور قوانین بنانے کے لیے مزید اجلاس منعقد ہوں گے۔ دنیا بھر کے ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو مصنوعی ذہانت کے غیر متوقع نتائج سے نمٹنا انتہائی مشکل ہو جائے گا۔