LIVE
Loading Breaking News...

اسرائیلی وزیراعظم اور وزراء کی فلم 'نزا' پر شدید تنقید

News Image
اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے دیگر وزراء کے ساتھ مل کر غزا پر مبنی دستاویزی فلم 'نزا' کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ اس فلم پر غزا میں ہونے والی ہلاکتوں کی عکاسی کرنے پر اسرائیل میں شدید ردعمل سامنے آیا ہے اور قانونی کارروائی کا بھی عندیہ دیا گیا ہے۔
اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے دیگر کابینہ ارکان کے ہمراہ وینز فلم فیسٹیول میں ایوارڈ حاصل کرنے والی متنازع دستاویزی فلم 'نزا' (NAZA) کے خلاف جاری تنقیدی مہم میں شمولیت اختیار کر لی ہے۔ یہ فلم غزا میں جاری تنازع اور وہاں ہونے والی ہلاکتوں کی کہانی بیان کرتی ہے، جس پر اسرائیلی سیاسی اور عسکری حلقوں میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ بین الاقوامی سطح پر پذیرائی حاصل کرنے والی اس فلم کو اسرائیل کے اندر شدید مخالفت کا سامنا ہے اور اسے ریاستی بیانیے کے منافی قرار دیا جا رہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق، کچھ اسرائیلی وزراء نے فلمسازوں کی شہریت منسوخ کرنے کی دھمکی بھی دی ہے جبکہ فوج اور اعلیٰ حکام اس بات کی تحقیقات کر رہے ہیں کہ فلم میں استعمال ہونے والا مواد اور معلومات کس طرح لیک ہوئیں۔ حکام کا دعویٰ ہے کہ یہ فلم ملک دشمنی کے زمرے میں آ سکتی ہے اور اس کے پس منظر میں اسرائیل مخالف جذبات کو ہوا دینے کے عوامل کارفرما ہیں۔ اس سلسلے میں قانونی چارہ جوئی کے امکانات پر بھی غور کیا جا رہا ہے تاکہ اس نوعیت کے پروجیکٹس کو روکا جا سکے جنہیں وہ ریاست کے خلاف پروپیگنڈا قرار دیتے ہیں۔ دوسری جانب، فلم کے تخلیق کاروں اور حامیوں کا مؤقف ہے کہ یہ دستاویزی فلم حقیقت پر مبنی ہے اور غزا میں ہونے والے انسانی المیے کو اجاگر کرتی ہے۔ بین الاقوامی فلمی دنیا میں اس دستاویزی فلم کی پذیرائی نے اسرائیل کے سفارتی اور ثقافتی حلقوں کو مشکل میں ڈال دیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس متنازع فلم پر ہونے والا یہ ہنگامہ آنے والے دنوں میں مزید شدت اختیار کر سکتا ہے کیونکہ حکومت اس معاملے پر سختی سے نمٹنے کا تہیہ کیے ہوئے ہے۔