Technology
میٹا کا عالمی وفد طلب، الگورتھمک بائس اور عوامی کردار پر سوالات
حکومت نے میٹا کے عالمی وفد کو آئندہ ہفتے طلب کر لیا ہے جہاں ان سے الگورتھمک بائس اور عوامی نظم و نسق میں کمپنی کے کردار پر پوچھ گچھ کی جائے گی۔ یہ اقدام وزیر اعظم نریندر مودی کی فیس بک پوسٹ پر عارضی پابندی کے واقعے کے بعد سامنے آیا ہے۔
حکومت کی جانب سے ٹیکنالوجی کی بڑی کمپنی میٹا کے عالمی وفد کو آئندہ ہفتے طلب کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق اس ملاقات کے دوران کمپنی کے نمائندوں سے الگورتھمک بائس یعنی الگورتھم کے تعصب اور عوامی نظم و نسق (public order) میں کمپنی کے کردار کے حوالے سے اہم اور سخت سوالات کیے جائیں گے۔ یہ معاملہ اس وقت شدت اختیار کر گیا جب حال ہی میں ملک کے وزیر اعظم نریندر مودی کی ایک فیس بک پوسٹ پر مختصر مدت کے لیے پابندی عائد کر دی گئی تھی، جس پر حکومتی حلقوں اور عوام کی طرف سے شدید ردعمل سامنے آیا تھا۔
اس واقعے کے بعد سے ہی ٹیکنالوجی کے ضابطہ کار اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی پالیسیوں پر بحث کا آغاز ہو چکا ہے۔ اگرچہ میٹا کی جانب سے اس واقعے پر کچھ وضاحتیں ضرور پیش کی گئی ہیں، تاہم حکومتی حکام کا ماننا ہے کہ یہ وضاحتیں ناکافی ہیں اور اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ اس بات کا جائزہ لیا جائے کہ آیا سوشل میڈیا کے الگورتھم غیر جانبدار طریقے سے کام کر رہے ہیں یا ان میں کسی قسم کا تعصب پایا جاتا ہے جو ملکی امن و امان یا سیاسی ماحول پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو اپنے فیصلوں میں شفافیت لانی ہوگی اور کسی بھی اہم ترین شخصیت یا عام صارف کے مواد کو بلاجواز محدود کرنے کے طریقہ کار کو واضح کرنا ہوگا۔ میٹا کے عالمی وفد کی اس آمد کے دوران ڈیجیٹل سیکیورٹی، اظہار رائے کی آزادی، اور سوشل میڈیا کمپنیوں کی جوابدہی جیسے اہم امور پر تفصیلی بات چیت متوقع ہے۔ اس میٹنگ کے نتائج آنے والے وقت میں سوشل میڈیا اور بڑی ٹیک کمپنیوں کے حوالے سے حکومتی پالیسیوں اور قوانین کی تشکیل میں اہم کردار ادا کریں گے۔