World
امریکی جمہوریت میں گراوٹ اور عالمی قانون کی حکمرانی
بین الاقوامی انسٹی ٹیوٹ فار ڈیموکریسی اینڈ الیکٹورل اسسٹنس (آئیڈیا) کی نئی رپورٹ میں انتباہ کیا گیا ہے کہ امریکی جمہوریت کے اہم اشاریے پچاس سال کی کم ترین سطح پر آ گئے ہیں۔ اس گراوٹ سے عالمی سطح پر استحکام کو شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں اور عالمی قانون کی حکمرانی کو بھی نقصان پہنچ رہا ہے۔
بین الاقوامی انسٹی ٹیوٹ فار ڈیموکریسی اینڈ الیکٹورل اسسٹنس (آئیڈیا) کی جانب سے جاری کردہ ایک تازہ ترین تحقیقی مطالعے میں شدید تشویش کا اظہار کیا گیا ہے کہ ریاستہائے متحدہ امریکہ میں جمہوری اداروں اور عمل کی حالت زار دن بدن کمزور ہوتی جا رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق امریکی جمہوریت کے تقریباً نصف اہم اشاریے گزشتہ پچاس سال کی تاریخ میں اپنی کم ترین سطح پر پہنچ چکے ہیں، جو کہ دنیا بھر کے جمہوری نظاموں کے لیے ایک پریشان کن رجحان ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ امریکہ جیسی بڑی عالمی طاقت میں جمہوری اقدار کا اس قدر تیزی سے تنزل پذیر ہونا نہ صرف داخلی سطح پر عدم استحکام کو جنم دے رہا ہے بلکہ اس کے اثرات بین الاقوامی سطح پر بھی گہرے مرتب ہو رہے ہیں۔ تحقیقی رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ امریکہ میں بڑھتی ہوئی سیاسی پولرائزیشن، انتخابی عمل پر اٹھنے والے سوالات اور اداروں کے اندرونی توازن میں کمی نے اس کے جمہوری تشخص کو گہرا نقصان پہنچایا ہے۔ جب دنیا کی سب سے بڑی معیشتوں اور دعویدار جمہوریتوں میں اندرونی بحران سر اٹھاتے ہیں تو اس کا براہ راست اثر عالمی سطح پر قانون کی حکمرانی اور جمہوری اصولوں پر پڑتا ہے۔ اس رپورٹ کے نتائج کے مطابق، امریکہ کے اندر جمہوری ڈھانچے کی کمزوری دنیا بھر میں آمرانہ رجحانات اور جمہوریت دشمن قوتوں کو تقویت دے رہی ہے، جس سے عالمی امن و استحکام کو خطرات لاحق ہو رہے ہیں۔ عالمی سیاسی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ نے اپنے جمہوری نظام کی اصلاح اور بحالی کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات نہیں کیے، تو اس کے نتائج پوری دنیا کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔ دنیا بھر کے جمہوری ممالک کو اب اس بات کا ادراک کرنا ہوگا کہ جمہوری اداروں کی بقا کے لیے اجتماعی کوششیں کتنی ضروری ہیں۔ آئیڈیا کی اس رپورٹ نے ایک بار پھر اس بحث کو جنم دیا ہے کہ عالمی سطح پر امن، انصاف اور قانون کی حکمرانی کا دارومدار بڑی طاقتوں کے اندرونی نظام کی شفافیت اور جمہوری اقدار پر منحصر ہے۔