LIVE
Loading Breaking News...

خلیجی خطے میں چین کی حکمت عملی اور امریکہ کا کردار

News Image
چین خلیجی خطے میں فوجی طاقت کے استعمال یا امریکی اثر و رسوخ کو براہ راست ختم کیے بغیر بھی اپنی معاشی اور سفارتی اہمیت بڑھا سکتا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ بیجنگ خطے میں عسکری ذمہ داریوں سے گریز کرتے ہوئے اپنے اسٹریٹجک اہداف باآسانی حاصل کر رہا ہے۔
عالمی امور کے ماہرین کے مطابق چین کو خلیجی خطے میں امریکہ کی جگہ لینے یا اس کی عسکری و سیاسی پوزیشن پر قابض ہونے کی ہرگز کوئی ضرورت نہیں ہے۔ بیجنگ کے لیے یہ حکمت عملی زیادہ سودمند ثابت ہو رہی ہے کہ وہ خطے میں کسی بھی قسم کی عسکری مداخلت یا فوجی اوور ریچ سے گریز کرے جبکہ اس کے باوجود اپنے معاشی اور سفارتی مفادات کو کامیابی سے آگے بڑھاتا رہے۔ خلیجی ممالک کے ساتھ چین کے تعلقات بنیادی طور پر تجارت، توانائی کی فراہمی اور اقتصادی تعاون پر مبنی ہیں، جو کسی جارحانہ فوجی اتحاد کے محتاج نہیں۔ امریکہ طویل عرصے تک خلیجی خطے میں ایک بڑی فوجی طاقت کے طور پر موجود رہا ہے اور سکیورٹی فراہم کرنے والا بنیادی فریق سمجھا جاتا رہا ہے۔ تاہم، اس عسکری موجودگی کے اپنے بھاری مالی اور سیاسی نقصانات بھی رہے ہیں جن میں مختلف تنازعات میں الجھ جانا بھی شامل ہے۔ دوسری طرف، چین نے ایک بالکل مختلف ماحولیاتی اور سفارتی رویہ اختیار کیا ہے۔ بیجنگ تمام علاقائی حریفوں کے ساتھ یکساں اچھے تعلقات استوار رکھتا ہے اور وہ مشرق وسطیٰ کے داخلی تنازعات میں فریق بننے سے گریز کرتا ہے۔ اس پالیسی کی وجہ سے چین کو بغیر کسی خطرے کے خطے میں گہرا اثر و رسوخ اور معاشی برتری حاصل ہو رہی ہے۔ خلیجی ممالک بھی اس بات کو اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ چین ان کا ایک اہم ترین تجارتی شراکت دار ہے جو توانائی کے شعبے میں ان کی برآمدات کا بڑا خریدار ہے۔ توانائی کی یہ باہمی تجارت دونوں فریقوں کے درمیان اعتماد کی فضا قائم کرتی ہے اور اس کے لیے کسی دفاعی معاہدے یا فوجیوں کی تعیناتی کی ضرورت پیش نہیں آتی۔ چین کی طرف سے خطے میں بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور سرمایہ کاری کے منصوبے خلیجی معیشتوں کے طویل المدتی وژن کے ساتھ مکمل طور پر ہم آہنگ ہیں، جس سے بیجنگ کا سیاسی وزن خود بخود بڑھ جاتا ہے۔ آخر کار، یہ رجحان اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ اکیسویں صدی میں عالمی طاقت بننے کے لیے صرف عسکری طاقت کا استعمال ضروری نہیں ہے۔ چین نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ معاشی سفارت کاری، غیر جانبدارانہ رویہ اور باضابطہ تجارت کے ذریعے بغیر کسی عسکری بوجھ کے مطلوبہ اسٹریٹجک اہداف حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ آنے والے وقت میں خلیجی خطے میں چین کا یہ سفارتی اور معاشی ماڈل عالمی سیاست میں ایک اہم مثال بن کر ابھرے گا، جو روایتی طاقت کے تصور کو چیلنج کرتا ہے۔