LIVE
Loading Breaking News...

غزہ میں ڈبلیو سی کے کارکنوں پر حملہ، تحقیقات کا مطالبہ

News Image
اسرائیل غزہ میں سات امدادی کارکنوں کی ہلاکت کے ذمہ داروں کا کٹہرے میں لانے سے گریزاں ہے۔ ان حالات میں کینیڈا، برطانیہ اور آسٹریلیا کو اس ہولناک حملے کی خود تحقیقات کرنی چاہئیں۔
بین الاقوامی سطح پر ایک بار پھر یہ مطالبہ زور پکڑتا جا رہا ہے کہ کینیڈا، برطانیہ اور آسٹریلیا سمیت دیگر اتحادی ممالک کو غزہ میں ورلڈ سینٹرل کچن (WCK) کے قافلے پر ہونے والے حملے کی خودمختارانہ تحقیقات کرنی چاہئیں۔ اس حملے میں مختلف ممالک کے سات بے گناہ امدادی کارکن اپنی جان کی بازی ہار گئے تھے، جس پر دنیا بھر میں شدید غم و غصے کا اظہار کیا گیا تھا۔ ان کارکنوں کی ہلاکت نے جنگ زدہ علاقوں میں کام کرنے والے امدادی اداروں کی سکیورٹی اور سلامتی پر گہرے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ اب تک کے حالات سے یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ اسرائیل اس بات پر بالکل آمادہ یا رضامند نظر نہیں آتا کہ وہ اپنے ان اہلکاروں یا ذمہ داروں کو کٹہرے میں لائے جو اس افسوسناک اور انسانیت سوز واقعے کے براہ راست ذمہ دار ہیں۔ اسرائیلی فوج کی جانب سے کی جانے والی اندرونی تحقیقات کو عالمی سطح پر ناکافی اور غیر شفاف قرار دیا گیا ہے، جس کی وجہ سے انصاف کے تقاضے پورے ہوتے دکھائی نہیں دے رہے۔ ایسے میں متاثرہ کارکنوں سے تعلق رکھنے والے ممالک بالخصوص کینیڈا، برطانیہ اور آسٹریلیا پر یہ اخلاقی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اس معاملے کو نظر انداز نہ کریں۔ ماہرین اور انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ اگر اسرائیل خود ذمہ داروں کا احتساب کرنے سے انکار کرتا ہے، تو عالمی برادری بالخصوص وہ ممالک جن کے شہری اس حملے میں مارے گئے، کو بین الاقوامی قوانین کے تحت آزادانہ تحقیقات کا آغاز کرنا چاہیے۔ اس اقدام سے نہ صرف شہداء کے لواحقین کو انصاف ملنے کی امید بندھے گی بلکہ مستقبل میں جنگی زونز میں کام کرنے والے امدادی کارکنوں کے تحفظ کو بھی یقینی بنایا جا سکے گا۔ بین الاقوامی قوانین کے تحت امدادی کارکنوں کو نشانہ بنانا جنگی زمرے میں آتا ہے، اور اس بابت مکمل شفافیت کا فقدان عالمی ضمیر کے لیے ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔