LIVE
Loading Breaking News...

وزیراعظم فیول ریلیف اسکیم رجسٹریشن اور پٹرول سبسڈی

News Image
حکومت نے وزیراعظم کے فیول ریلیف اسکیم کے تحت عوام کو سہولت فراہم کرنے کے لیے رجسٹریشن کے طریقہ کار کو مزید آسان بنانے پر زور دیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد مستحق شہریوں تک پٹرول سبسڈی اور ریلیف کے فوائد بغیر کسی دشواری کے پہنچانا ہے۔
حکومتِ پاکستان کی جانب سے شروع کیے گئے وزیراعظم کے فیول ریلیف پروگرام کے تحت شہریوں کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کرنے کے لیے اقدامات کا سلسلہ جاری ہے۔ اس ضمن میں متعلقہ حکام نے اس بات پر زور دیا ہے کہ فیول ریلیف اسکیم کے لیے رجسٹریشن کے عمل کو جتنا ممکن ہو سکے آسان بنایا جائے تاکہ ملک بھر کے عام اور مستحق شہری اس سے باآسانی مستفید ہو سکیں۔ حالیہ دنوں میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے تناظر میں اس اسکیم کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے اور حکومت چاہتی ہے کہ ریلیف کا یہ پیکج بلا تاخیر نچلی سطح تک پہنچے۔ حکام کا کہنا ہے کہ پٹرول پر سبسڈی کے حصول کے لیے پیچیدہ ضابطے عام آدمی کے لیے مشکلات کا باعث بن سکتے ہیں، اس لیے ایک ایسا شفاف اور سادہ نظام وضع کیا جا رہا ہے جس کے ذریعے ہر مستحق شخص کم سے کم وقت میں اپنی رجسٹریشن مکمل کر سکے۔ اس سلسلے میں ڈیجیٹل اور روایتی دونوں ذرائع کو استعمال کرنے کی تجاویز زیرِ غور ہیں تاکہ دور دراز علاقوں میں رہنے والے افراد بھی اس سہولت سے محروم نہ رہیں۔ دوسری جانب وفاقی دارالحکومت میں پٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور افراط زر کے پیشِ نظر حکومتی مشینری متحرک ہو چکی ہے۔ وزیرِ مملکت اور دیگر اہم شخصیات کی جانب سے یہ واضح کیا گیا ہے کہ حکومت عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے تمام ممکنہ وسائل بروئے کار لائے گی۔ اس کے علاوہ، بڑھتی ہوئی قیمتوں کے تناظر میں سمارٹ لاک ڈاؤن یا اس قسم کی دیگر افواہوں کو بھی یکسر مسترد کر دیا گیا ہے، اور یہ واضح کیا گیا ہے کہ ملک میں کاروباری سرگرمیاں معمول کے مطابق جاری رہیں گی۔ حکومت کا عزم ہے کہ ایک طرف معاشی استحکام کے لیے اصلاحات کا عمل جاری رکھا جائے اور دوسری طرف کم آمدنی والے طبقے کو مہنگائی کے اثرات سے بچانے کے لیے ہدفی سبسڈی کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔ متوقع فیول ریلیف اسکیم کے ذریعے غریب اور متوسط طبقے کو براہِ راست مالی تعاون ملے گا، جس سے ٹرانسپورٹ اور روزمرہ کی اشیائے ضروریہ کی نقل و حمل پر پڑنے والے منفی اثرات کو کسی حد تک کم کرنے میں مدد ملے گی۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر رجسٹریشن کا نظام واقعی شفاف اور آسان بنا دیا جائے تو اس سے بدعنوانی کے امکانات بھی کم ہو جائیں گے اور اصل حق داروں تک ان کا حق پہنچنا یقینی ہوگا۔