Business
پاکستان چین اور افریقہ اقتصادی تعاون اور تجارتی مواقع
پاکستان، چین اور افریقہ کے درمیان سہ جانبہ اقتصادی تعاون کا نیا فریم ورک تشکیل دینے پر غور کیا جا رہا ہے۔ اس اقدام سے دونوں خطوں کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔
اسلام آباد: پاکستان، چین اور افریقہ کے خطے کے درمیان ایک مؤثر سہ جانبہ اقتصادی تعاون کا فریم ورک تشکیل دینے کی تجاویز پر سنجیدگی سے غور شروع کر دیا گیا ہے۔ اس ممکنہ فریم ورک کا بنیادی مقصد تینوں خطوں کے مابین تجارت، سرمایہ کاری اور صنعتی تعاون کو فروغ دینا ہے تاکہ باہمی اقتصادی ترقی کی نئی راہیں کھل سکیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس نوعیت کا اشتراک کار تینوں فریقین کے لیے انتہائی فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔
حالیہ رپورٹس کے مطابق پاکستان اور افریقی ممالک نے سال 2030 تک دوطرفہ تجارت کو 15 ارب ڈالر تک پہنچانے کا ambitious ہدف مقرر کیا ہے۔ اس ہدف کے حصول کے لیے چیمبر آف کامرس اور دیگر متعلقہ اداروں کی طرف سے افریقی ممالک کے ساتھ خصوصی اقتصادی معاہدوں کے قیام پر زور دیا جا رہا ہے۔ تجارتی حلقوں کا خیال ہے کہ افریقی منڈیوں تک رسائی پاکستانی برآمدات کے لیے گیم چنجر ثابت ہو سکتی ہے۔
چینی ماہرین اور کاروباری شخصیات کا بھی یہی مؤقف ہے کہ چین، پاکستان اور افریقہ کے درمیان صنعتی تعاون سے خطے میں روزگار کے نئے مواقع اور معاشی استحکام پیدا ہوگا۔ اس حوالے سے مختلف پلیٹ فارمز پر بات چیت کا سلسلہ جاری ہے اور بہت جلد اس سہ جانبہ فریم ورک کو عملی جامہ پہنانے کے لیے عملی اقدامات کا آغاز کیے جانے کی توقع ہے۔