World
سعودی عرب کا حوثی حملوں پر سخت جوابی کارروائی کا اعلان
سعودی عرب نے حالیہ حوثی حملوں کے بعد جارحیت کا بھرپور اور سخت جواب دینے کا اعلان کیا ہے۔ دوسری جانب خطے میں کشیدگی کے تناظر میں ایران اور امریکہ کے درمیان کشمکش اور سفارتی کوششیں بھی جاری ہیں۔
ریاض: سعودی عرب نے حوثی باغیوں کی جانب سے ہونے والے حالیہ حملوں کے بعد انتہائی سخت موقف اختیار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ مملکت کی سلامتی اور خودمختاری کے دفاع کے لیے ہر ممکن قدم اٹھایا جائے گا۔ سعودی قیادت نے عزم ظاہر کیا ہے کہ ایسے تمام جارحانہ اقدامات کا انتہائی سختی اور فیصلہ کن انداز میں جواب دیا جائے گا تاکہ خطے میں امن و استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔ حالیہ دنوں میں حوثی ملیشیا کی طرف سے بڑھتی ہوئی کارروائیوں نے بین الاقوامی برادری کی توجہ بھی اپنی جانب مبذول کرا رکھی ہے اور سکیورٹی ماہرین اس صورتحال کو انتہائی تشویشناک قرار دے رہے ہیں۔
دوسری جانب مشرق وسطیٰ کی مجموعی صورتحال انتہائی پیچیدہ ہوتی جا رہی ہے جہاں ایک طرف خطے کے ممالک دفاعی اورابی حکمت عملی پر غور کر رہے ہیں تو دوسری طرف بین الاقوامی سطح پر سفارتی کوششیں بھی جاری ہیں۔ اطلاعات کے مطابق حوثی رہنماؤں نے اپنے ایک بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ سعودی عرب کے علاوہ تمام بین الاقوامی جہاز رانی کے لیے آبنائے تک رسائی بالکل آزاد ہے، جو خطے میں جاری کشیدگی کی ایک نئی جہت کو ظاہر کرتا ہے۔ اس اعلان نے سمندری تجارت اور خطے کی سلامتی کے حوالے سے نئی بحث کو جنم دیا ہے۔
ادھر ایران اور امریکہ کے درمیان تعلقات میں بھی اتار چڑھاؤ جاری ہے۔ رپورٹس کے مطابق ایران نے سابقہ امریکی بیانات اور دھمکیوں کے بعد واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے سخت شرائط رکھی ہیں جبکہ دوسری جانب امریکی حکام پاکستان جیسے دوست ممالک کے توسط سے بتدریج معاہدے کے حصول کے لیے کوشاں ہیں۔ تہران کا مؤقف ہے کہ اگر امریکی پابندیوں کو مکمل طور پر ختم کر دیا جائے تو وہ اپنے جوہری پروگرام کے حوالے سے بات چیت کے لیے تیار ہو سکتا ہے، تاہم موجودہ ماحول میں اعتماد کی فضا کا فقدان نمایاں ہے۔
خطے کے مبصرین کا ماننا ہے کہ مشرق وسطیٰ کا موجودہ سیاسی اور عسکری منظرنامہ انتہائی حساس مرحلے سے گزر رہا ہے۔ سعودی عرب کی طرف سے سخت جوابی کارروائی کے عزم اور دوسری طرف تہران و واشنگٹن کے درمیان جاری سفارتی رسہ کشی کے باعث آنے والے دنوں میں خطے کی سیاست میں اہم تبدیلیاں متوقع ہیں۔ عالمی برادری خطے میں امن کے قیام کے لیے تمام فریقین پر زور دے رہی ہے تاکہ ایک بڑی جنگ یا تنازع سے بچا جا سکے۔