Pakistan
پمز اسپتال آتشزدگی انکوائری رپورٹ اور ادارہ جاتی ناکامی
اسلام آباد کے پمز اسپتال میں پیش آنے والے المناک آتشزدگی کے واقعے کی انکوائری کمیٹی نے تفصیلی رپورٹ جاری کر دی ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ المیہ کسی ایک غلطی کا نتیجہ نہیں بلکہ نظام اور اداروں کی سنگین ناکامیوں کا شاخسانہ ہے۔
اسلام آباد کے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) میں نرسری وارڈ میں پیش آنے والے ہولناک آتشزدگی کے واقعے کی تحقیقات مکمل کر لی گئی ہیں، جس کے بعد ایک تفصیلی انکوائری رپورٹ سامنے آئی ہے۔ اس رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ یہ المناک سانحہ کسی اچانک حادثے کا نتیجہ نہیں بلکہ اس کے پیچھے گہرے نظاماتی اور ادارہ جاتی نقائص کارفرما تھے۔ کمیٹی کی تحقیقات کے مطابق اسپتال انتظامیہ نے فائر سیفٹی سے متعلق متعدد انتباہات کو یکسر نظر انداز کیا، جس کی وجہ سے یہ بڑا جانی نقصان ہوا۔ اس دلخراش واقعے میں چودہ معصوم نوزائیدہ بچوں کی جانیں چلی گئی تھیں، جس نے پورے ملک کو سوگوار کر دیا۔
ذرائع کے مطابق انکوائری رپورٹ میں اس بات پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا ہے کہ متعلقہ حکام نے حفاظتی انتظامات بہتر بنانے کے لیے بروقت اقدامات نہیں کیے۔ فائر سیفٹی کے اصولوں کی سنگین خلاف ورزیاں اور وارڈ میں حفاظتی آلات کی عدم دستیابی نے اس سانحے کی راہ ہموار کی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے حادثات اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ ملک بھر کے تمام سرکاری اور نجی اسپتالوں میں فائر سیفٹی کے نظام کا فوری اور سخت آڈٹ کیا جائے تاکہ مستقبل میں ایسے اندوہناک واقعات کو روکا جا سکے۔
دوسری جانب سینیٹ کی قائمہ کمیٹی اور دیگر پارلیمانی حلقوں نے بھی اس المناک واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے ذمہ داران کے خلاف فوری اور سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ سیاسی و سماجی حلقوں نے بھی اس بات پر زور دیا ہے کہ غفلت کے مرتکب تمام افراد کو کٹہرے میں لایا جائے تاکہ متاثرہ خاندانوں کو انصاف مل سکے۔ ادھر سول سوسائٹی اور ماہرین نے پاکستان کے تمام تعمیراتی اور طبی اداروں میں انجینئر آف ریکارڈ جیسے قانونی تقاضے نافذ کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے تاکہ انسانی جانوں کے ساتھ کھیلنے والے ایسے سنگین نقصانات کا ہمیشہ کے لیے سدباب کیا جا سکے۔