World
سعودی عرب کا حوثی خطرے کے پیش نظر اسرائیل سے رابطے کا امکان
سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان حوثی باغیوں کے بڑھتے ہوئے خطرات کے پیش نظر خفیہ معلومات کے تبادلے پر بات چیت شروع ہو گئی ہے۔ پاکستان اور ترکی کی جانب سے مکہ معاہدے کے تحت توقعات پوری نہ ہونے کے بعد ریاض اب واشنگٹن اور تل ابیب کی جانب دیکھ رہا ہے۔
مشرق وسطیٰ کی بدلتی ہوئی جغرافیائی سیاست میں ایک اہم موڑ سامنے آیا ہے، جہاں سعودی عرب نے حوثی باغیوں کی جانب سے بڑھتے ہوئے خطرات کے تناظر میں اب اسرائیل کے ساتھ انٹیلی جنس تعاون پر غور کرنا شروع کر دیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق، بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں پر حملوں اور سعودی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی کوششوں نے ریاض کو مجبور کر دیا ہے کہ وہ روایتی اتحادیوں سے ہٹ کر نئے آپشنز تلاش کرے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ یہ صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب مکہ معاہدے کے تحت پاکستان اور ترکی سے جو امیدیں وابستہ تھیں، وہ زمینی حقائق کی کسوٹی پر پورا نہیں اتر سکیں، جس کے بعد سعودی قیادت نے اپنی حکمت عملی میں تبدیلی کا فیصلہ کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق، سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے امریکی حکام سے بھی حوثیوں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا تھا، تاہم واشنگٹن کی جانب سے براہ راست تحفظ فراہم کرنے سے انکار کے بعد ریاض نے اب اپنی سیکیورٹی ترجیحات کو تبدیل کیا ہے۔ اسرائیل کے ساتھ انٹیلی جنس شیئرنگ پر بات چیت کا مطلب یہ ہے کہ سعودی عرب اب خطے میں ایک نئے سیکیورٹی اتحاد کی تشکیل کی طرف مائل ہو رہا ہے جو بالواسطہ طور پر اسرائیل کے ساتھ تعاون کو فروغ دے سکتا ہے۔ یہ پیش رفت خاص طور پر ان ممالک کے لیے باعث تشویش ہے جو سعودی عرب کے ساتھ اسلامی بلاک میں مضبوط تعلقات کے خواہاں تھے۔
حالیہ ہفتوں کے دوران حوثی باغیوں کی جانب سے عسکری سرگرمیوں میں اضافے نے خطے میں تیل کی سپلائی لائنوں اور سمندری تجارت کے لیے سنگین خطرات پیدا کر دیے ہیں۔ سعودی عرب، جو طویل عرصے تک یمن میں جاری تنازعے میں ملوث رہا ہے، اب اپنی سرحدی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن مدد حاصل کرنا چاہتا ہے۔ اسرائیل کے ساتھ انٹیلی جنس تعاون کا مطلب ہے کہ دونوں ممالک تہران کے حمایت یافتہ حوثیوں کے خلاف ایک مشترکہ حکمت عملی پر کام کر سکتے ہیں۔ اگرچہ سرکاری سطح پر ابھی تک کوئی حتمی معاہدہ طے نہیں پایا، لیکن سفارتی حلقوں میں اسے ایک بڑی تبدیلی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جس کے دور رس نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔