Business
عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کی وجوہات
سعودی عرب کی جانب سے برآمدات میں کمی اور لیبیا میں پیداواری تعطل کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جغرافیائی سیاسی کشیدگی کی وجہ سے سپلائی کے خدشات قیمتوں کو مسلسل اوپر لے جا رہے ہیں۔
بین الاقوامی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں ایک بار پھر تیزی کا رجحان دیکھا جا رہا ہے، جس کی بنیادی وجہ عالمی سپلائی چین میں پیدا ہونے والی رکاوٹیں ہیں۔ 15 ستمبر کو برینٹ فیوچرز (UKOIL-F) کی قیمتوں میں 2.09 فیصد کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس نے سرمایہ کاروں اور توانائی کے ماہرین کی توجہ حاصل کر لی ہے۔ قیمتوں میں اس اضافے کی اہم ترین وجہ سعودی عرب کی جانب سے برآمدات میں عارضی کمی اور لیبیا کے آئل فیلڈز میں پیدا ہونے والی فنی و سیاسی مشکلات ہیں۔ ان واقعات نے عالمی منڈی میں تیل کی دستیابی کے حوالے سے سخت تشویش کو جنم دیا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق توانائی کی منڈی اس وقت شدید دباؤ کا شکار ہے۔ مشرق وسطیٰ میں جاری جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور سعودی عرب کی تنصیبات پر حملوں کے خدشات نے مارکیٹ کو غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔ دوسری جانب عالمی سطح پر طلب میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جبکہ سپلائی میں رکاوٹیں آنے سے قیمتوں کو اوپر جانے میں مدد مل رہی ہے۔ ماہرینِ معاشیات کا ماننا ہے کہ اگر لیبیا میں تیل کی پیداوار بحال نہ ہوئی اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال مزید کشیدہ ہوئی تو خام تیل کی قیمتیں مزید بلندیوں کو چھو سکتی ہیں جس کا براہِ راست اثر عالمی افراطِ زر پر پڑے گا۔
واضح رہے کہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) میں بھی 4 فیصد تک کا بڑا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جو کہ عالمی توانائی بحران کی سنگینی کو ظاہر کرتا ہے۔ انرجی مارکیٹ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں قیمتوں کا انحصار اوپیک پلس (OPEC+) ممالک کے فیصلوں اور عالمی سطح پر تیل کے ذخائر کی صورتحال پر ہوگا۔ اگر سپلائی کے مسائل حل نہ کیے گئے تو صارفین کو پیٹرولیم مصنوعات کی مزید مہنگی قیمتوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ یہ صورتحال دنیا بھر کی ٹرانسپورٹ، صنعت اور معاشی ترقی پر گہرے اثرات مرتب کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔