Entertainment
ایڈ شیرن اور میکلمور تنازعہ: فلسطین حق میں بیان دینے پر گلوکار کو ٹور سے نکال دیا گیا
معروف گلوکار ایڈ شیرن کی جانب سے میکلمور کو اپنے امریکی ٹور سے نکالے جانے کا معاملہ عالمی سطح پر بحث کا موضوع بن گیا ہے۔ میکلمور کی جانب سے فلسطین کی حمایت میں نعرے بازی کے بعد یہ فیصلہ سامنے آیا جس پر شائقین کی جانب سے ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
برطانوی گلوکار ایڈ شیرن کے جاری امریکی ٹور کے حوالے سے اس وقت ایک نیا اور سنگین تنازعہ کھڑا ہو گیا ہے جب یہ خبر سامنے آئی کہ انہوں نے معروف ریپر میکلمور کو اپنے ٹور سے نکال دیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق یہ اقدام میکلمور کی جانب سے فلسطین کی حمایت میں دیے گئے بیانات اور نعرے بازی کے بعد اٹھایا گیا ہے۔ میکلمور نے اپنے حالیہ شوز کے دوران 'فری فلسطین' کے حق میں کھل کر آواز اٹھائی تھی، جس پر میوزک انڈسٹری اور سوشل میڈیا پر شدید بحث چھڑ گئی ہے۔ اس فیصلے کے بعد ایڈ شیرن کو اپنے مداحوں اور انسانی حقوق کے حامیوں کی جانب سے تنقید کا سامنا ہے، جو اس عمل کو آزادی اظہار رائے پر قدغن قرار دے رہے ہیں۔
دوسری جانب اس معاملے میں اہم شخصیات کی مداخلت بھی دیکھی جا رہی ہے۔ نیو انگلینڈ پیٹریاٹس کے مالک رابرٹ کرافٹ نے ایڈ شیرن کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ میکلمور کا اسٹیج پر اس طرح کا مؤقف اختیار کرنا اخلاقی اور پیشہ ورانہ حدود کو پار کرنے کے مترادف تھا۔ رابرٹ کرافٹ کے اس بیان نے معاملے کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے اور اب یہ بحث صرف موسیقی تک محدود نہیں رہی بلکہ سیاسی رنگ اختیار کر چکی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ایک فنکار کو اپنے سیاسی نظریات کے اظہار کی وجہ سے کام سے محروم کرنا افسوسناک ہے، جبکہ دوسرے طبقے کا ماننا ہے کہ کاروباری اور پرفارمنس کے ایونٹس میں ایسے سیاسی نعرے گریز کیے جانے چاہئیں۔
ایڈ شیرن کی انتظامیہ اور ان کے قریب ذرائع نے اس معاملے پر خاموشی اختیار کر رکھی ہے تاہم سوشل میڈیا پر طوفان تھمنے کا نام نہیں لے رہا۔ میکلمور نے بھی اس معاملے پر براہِ راست کوئی لمبی چوڑی وضاحت تو نہیں دی، لیکن ان کے حامیوں کا کہنا ہے کہ وہ اپنے اصولی مؤقف پر قائم ہیں۔ عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس واقعے نے موسیقی کی دنیا میں موجود تقسیم کو نمایاں کر دیا ہے جہاں فنکاروں کو اپنے خیالات کے اظہار اور پروفیشنل کیریئر کے درمیان توازن برقرار رکھنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا ہوگا کہ کیا ایڈ شیرن اس تنازعے پر کوئی باقاعدہ وضاحتی بیان جاری کرتے ہیں یا نہیں۔