World
لیٹبی انکوائری رپورٹ: صحت کا نظام مجرمانہ غفلت کا ذمہ دار
انکوائری کی سربراہ لیڈی جسٹس تھرل وال نے واضح کیا ہے کہ صحت کے نظام کی ثقافت نے ایسے حالات پیدا کیے جنہوں نے خراب دیکھ بھال اور جرائم کی حوصلہ افزائی کی۔ رپورٹ میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ پورا طبی ڈھانچہ اصلاحات کا متقاضی ہے۔
برطانیہ میں بچوں کی قاتل نرس لوسی لیٹبی کے معاملے پر قائم کی جانے والی انکوائری کی سربراہ لیڈی جسٹس تھرل وال نے ایک انتہائی اہم بیان میں کہا ہے کہ اس پورے سانحے میں ناکامی کا تعلق صرف ایک اسپتال یا مخصوص عملے تک محدود نہیں ہے، بلکہ صحت کے پورے نظام میں بنیادی خرابیاں موجود ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ طبی نظام کی مجموعی ثقافت نے ایسے سازگار حالات پیدا کیے جن کی وجہ سے نہ صرف خراب دیکھ بھال کو فروغ ملا بلکہ مجرمانہ سرگرمیوں کے لیے بھی راہیں ہموار ہوئیں۔ انکوائری کے دوران اس بات کا گہرائی سے جائزہ لیا گیا کہ کس طرح انتظامی اور حکومتی سطح پر انتباہی اشاروں کو نظر انداز کیا گیا اور کون سے عوامل نے اس المناک صورتحال کو جنم دیا۔ انکوائری رپورٹ کے مطابق صحت کے محکمے کے اندر احتساب کا موثر نظام موجود نہیں تھا، جس کی وجہ سے بروقت کارروائی عمل میں نہیں لائی جا سکی۔ ماہرین اور متاثرین کے لواحقین نے اس بات کا مطالبہ کیا ہے کہ صرف انفرادی سزا پر اکتفا نہ کیا جائے بلکہ پورے سسٹم کی اصلاحات کی جائیں تاکہ مستقبل میں اس قسم کے دردناک واقعات کو روکا جا سکے۔ اس انکوائری نے برطانوی طبی نظام کی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے اور اب حکومت پر شدید دباؤ ہے کہ وہ اس رپورٹ کی روشنی میں فوری اور سخت انتظامی اقدامات کرے تاکہ اسپتالوں میں مریضوں کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے اور اداروں کی کارکردگی میں شفافیت لائی جا سکے۔