LIVE
Loading Breaking News...

امریکی قرضوں کی شرح سود 2007 کے بعد بلند ترین سطح پر

News Image
امریکہ میں دس سالہ بانڈز پر مؤثر شرح سود بڑھ کر 5.04 فیصد تک جا پہنچی جو کہ سال 2007 کے بعد کی بلند ترین سطح ہے۔ اس اضافے کے بعد اگرچہ شرح میں کچھ کمی واقع ہوئی ہے تاہم مالیاتی منڈیوں میں ہلچل مچی ہوئی ہے۔
امریکی معیشت سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق امریکی حکومت کے لیے قرض حاصل کرنے کی لاگت میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے اور یہ شرح سال 2007 کے بعد اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔ معاشی ماہرین کے مطابق دس سالہ سرکاری بانڈز پر مؤثر شرح سود، جسے ٹریژری یلڈ بھی کہا جاتا ہے، بڑھ کر 5.04 فیصد کی سطح تک جا پہنچی ہے۔ اس پیشرفت نے عالمی مالیاتی منڈیوں میں سرمایہ کاروں کی توجہ مبذول کروا لی ہے کیونکہ امریکی معیشت میں قرضے کے بڑھتے ہوئے اخراجات عالمی سطح پر گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ ابتدائی طور پر اس شرح میں تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آیا جس نے مالیاتی اداروں اور بانڈ مارکیٹ میں ہلچل مچا دی۔ تاہم اس بلند ترین سطح کو چھونے کے بعد شرح میں قدرے نرمی بھی دیکھی گئی ہے اور یہ اس انتہائی بلند پوائنٹ سے کچھ نیچے آئی ہے۔ اس کے باوجود، معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ شرح سود کا اس بلند سطح پر برقرار رہنا اس بات کا عکاس ہے کہ مہنگائی کو قابو میں رکھنے اور مرکزی بینک کی پالیسیوں کے اثرات کس طرح سرکاری قرضوں کی لاگت پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔ امریکہ میں قرض لینے کی بڑھتی ہوئی لاگت کے اثرات صرف ملکی سطح تک محدود نہیں رہتے بلکہ اس کا براہ راست اثر عالمی بانڈ مارکیٹس، اسٹاک ایکسچینجز اور دنیا بھر کے سرمایہ کاروں کے فیصلوں پر پڑتا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر شرح سود طویل عرصے تک بلند سطح پر برقرار رہی تو حکومت کے لیے اپنے قرضوں پر سود کی ادائیگی مزید مہنگی ہو جائے گی، جس سے مالیاتی خسارے اور دیگر معاشی اشاریوں پر بھی دباؤ بڑھنے کا خدشہ ہے۔