LIVE
Loading Breaking News...

نوہا ڈونو ہو انکوائری رپورٹ جاری، سرنگ کی غلطیاں موت کا سبب بنیں

News Image
برطانیہ میں نوہا ڈونو ہو کی موت کے حوالے سے انکوائری کا فیصلہ سامنے آ گیا ہے جس میں جیوری نے سرنگ کے تکنیکی اور انتظامی نقائص کو ذمہ دار قرار دیا ہے۔ نو ماہ تک جاری رہنے والی اس تفتیش کے بعد نو رکنی جیوری نے اپنی حتمی رپورٹ عدالت میں پیش کی۔
نوہا ڈونو ہو کی پراسرار اور المناک موت کے معاملے میں طویل عرصے سے جاری انکوائری کا فیصلہ منگل کے روز سنا دیا گیا ہے۔ نو ارکان پر مشتمل جیوری نے اس اہم اور حساس معاملے پر اپنے فیصلے کے دوران دس بنیادی سوالات کے جوابات دیے۔ جنوری میں شروع ہونے والی اس تفتیشی کارروائی کے اختتام پر سامنے آنے والے نتائج میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ متعلقہ سرنگوں میں پائے جانے والے نقائص اور انتظامی غلطیوں نے شاید اس نوجوان کی موت واقع ہونے میں اپنا کردار ادا کیا ہوگا۔ انکوائری کے دوران مختلف ماہرین، گواہوں اور تحقیقاتی اداروں کے بیانات قلمبند کیے گئے تاکہ اس بات کی تہہ تک پہنچا جا سکے کہ اس حادثے کے اسباب کیا تھے۔ عدالت میں پیش کی گئی رپورٹ کے مطابق، نوہا ڈونو ہو کے اہل خانہ نے اس طویل عمل کے دوران انصاف کے حصول کے لیے بھرپور جدوجہد کی۔ ماں کی طرف سے یہ مؤقف بارہا دہرایا گیا کہ ان کے بیٹے کو انصاف ملنا چاہیے اور اس واقعے کے پیچھے چھپی تمام خامیوں کو بے نقاب کیا جانا چاہیے۔ جیوری نے اپنے تفصیلی غور و خوض کے بعد اس بات کی نشاندہی کی کہ اگر متعلقہ اداروں کی طرف سے سکیورٹی اور تعمیراتی امور میں لاپرواہی نہ برتی جاتی اور بروقت اقدامات کیے جاتے، تو شاید اس بڑے نقصان سے بچا جا سکتا تھا۔ اس فیصلے نے ایک بار پھر شہری حفاظت اور سرکاری اداروں کی ذمہ داریوں پر ایک بڑا سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ اس فیصلے کے بعد عوامی اور سماجی حلقوں کی طرف سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے اور مختلف انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی اس معاملے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ مستقبل میں اس نوعیت کے حفاظتی انتظامات کو بہتر بنانے کے لیے ایک سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے تاکہ آئندہ کسی بھی شہری کو ایسے دردناک حالات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ عدالت نے اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ متعلقہ اداروں کو اپنی پالیسیوں کا از سر نو جائزہ لینا چاہیے اور انفراسٹرکچر کے ان نقائص کو فوری طور پر دور کرنا چاہیے جن کی وجہ سے انسانی جانوں کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔