World
آبنائے ہرمز میں آئل ٹینکر پر حملہ، دو ملاح لاپتہ
آبنائے ہرمز میں ایک آئل ٹینکر پر حملے کے بعد دو ملاح لاپتہ ہو گئے ہیں، جبکہ سلطنتِ عمان کے حکام نے واقعے کی تصدیق کر دی ہے۔ ایرانی اور امریکی ذرائع کی جانب سے حملے کی مختلف وجوہات بیان کی جا رہی ہیں۔
سلطنتِ عمان کے حکام نے تصدیق کی ہے کہ آبنائے ہرمز کے قریب ایک آئل ٹینکر پر حملہ کیا گیا ہے جس کے نتیجے میں جہاز پر سوار دو ملاح لاپتہ ہو گئے ہیں۔ یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب خطے میں میری ٹائم سیکیورٹی اور جہاز رانی کے حوالے سے پہلے ہی شدید تناؤ پایا جا رہا ہے۔ لاپتہ ہونے والے ملاحوں کی تلاش کے لیے سرچ اور ریسکیو آپریشن جاری ہے لیکن تاحال ان کا کوئی سراغ نہیں مل سکا ہے۔
دوسری جانب اس حملے کی نوعیت اور ذمے داری کے حوالے سے مختلف دعوے سامنے آ رہے ہیں۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ آئل ٹینکر 'ایل گائیا' بارودی سرنگوں سے ٹکرانے کے بعد آگ کی لپیٹ میں آ گیا۔ ایران کے مطابق یہ حادثہ سمندری راستے میں موجود بارودی مواد کی وجہ سے پیش آیا، جس نے جہاز کو شدید نقصان پہنچایا اور اس میں آگ لگ گئی۔
اس کے برعکس، امریکہ نے ایرانی مؤقف کو یکسر مسترد کرتے ہوئے ایک الگ بیان جاری کیا ہے۔ امریکی حکام کا دعویٰ ہے کہ آئل ٹینکر پر بارودی سرنگ نہیں بلکہ پہلے ایک میزائل اور پھر اس کے بعد ایک ڈرون کے ذریعے حملہ کیا گیا۔ اس طرح کے متضاد بیانات نے اس واقعے کو بین الاقوامی سطح پر انتہائی اہم بنا دیا ہے اور عالمی طاقتیں صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔
آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین تیل کی ترسیل کے راستوں میں شامل ہے، جہاں سے روزانہ کی بنیاد پر لاکھوں بیرل تیل لے جانے والے جہاز گزرتے ہیں۔ اس نوعیت کے حملے عالمی منڈی میں توانائی کی فراہمی اور تجارتی جہاز رانی کے لیے ایک بڑا خطرہ تصور کیے جاتے ہیں۔ بین الاقوامی برادری نے واقعے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سمندری گزرگاہوں پر سیکیورٹی مزید سخت کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔