World
مشرق وسطیٰ کی تازہ ترین صورتحال اور ایران کا سخت ردعمل
مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا یا اسرائیل نے اس کے توانائی کے مراکز کو نشانہ بنایا تو سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ دوسری جانب خطے میں موجود امریکی سفارت خانوں نے شہریوں کو حفاظتی اقدامات اور ممکنہ اخراج کے لیے تیار رہنے کی ہدایت کی ہے۔
مشرق وسطیٰ کے امور پر عالمی سطح پر تشویش میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے کیونکہ اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری محاذ آرائی اور ممکنہ امریکی مداخلت کے پیش نظر خطہ ایک بار پھر سنگین بحران کی لپیٹ میں ہے۔ تہران کی جانب سے واضح طور پر یہ انتباہ جاری کیا گیا ہے کہ اگر کسی بھی قسم کی جارحیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایران کے توانائی کے شعبے یا بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا تو اس کے انتہائی خطرناک اثرات مرتب ہوں گے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ جنگ کی اس آگ کو بھڑکانے والے عناصر کو منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق، حالیہ دنوں میں کشیدگی اس وقت مزید بڑھ گئی جب ایرانی ذرائع اور میڈیا رپورٹس میں مبینہ طور پر خلیجی ممالک اور خطے میں موجود اہم توانائی اور گیس کے شعبوں کو ممکنہ اہداف کے طور پر زیر بحث لایا گیا۔ اس صورتحال نے عالمی توانائی کی منڈیوں میں بھی ہلچل مچا دی ہے، بالخصوص سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر کی تنصیبات کی سلامتی کے حوالے سے عالمی رہنماؤں کی طرف سے تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور سپلائی چین کے متاثر ہونے کے خدشات نے دنیا بھر کے معاشی حلقوں کو پریشان کر رکھا ہے۔
اس غیر یقینی اور کشیدہ صورتحال کے پیش نظر خطے میں موجود مختلف ممالک میں قائم امریکی سفارت خانوں نے اپنے شہریوں کے لیے ہنگامی ہدایات جاری کی ہیں۔ یروشلم سمیت مشرق وسطیٰ کے کئی دیگر دارالحکومتوں میں امریکی سفارت خانے نے اپنے شہریوں کو انتہائی محتاط رہنے، عوامی اجتماعات سے گریز کرنے اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں علاقہ چھوڑنے یا محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کے لیے تیار رہنے کی تاکید کی ہے۔ سکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے چند دن خطے کے مستقبل اور امن کے حوالے سے انتہائی فیصلہ کن ثابت ہو سکتے ہیں، جبکہ سفارتی سطح پر تناؤ کو کم کرنے کی کوششیں بھی جاری ہیں۔