LIVE
Loading Breaking News...

کانگو: آئینی تبدیلیوں کے خلاف احتجاج پر پولیس کا کریک ڈاؤن

News Image
جمہوری جمہوریہ کانگو میں صدر کی طرف سے پیش کردہ متنازعہ آئینی تبدیلیوں کے خلاف ملک بھر میں بڑے پیمانے پر مظاہرے کیے گئے۔ پولیس نے ان احتجاجی مظاہروں کو روکنے کے لیے سخت کریک ڈاؤن کیا اور کارروائیاں کی ہیں۔
جمہوری جمہوریہ کانگو میں سیاسی صورتحال ایک بار پھر کشیدہ ہو گئی ہے جہاں صدر کی جانب سے تجویز کردہ آئینی تبدیلیوں کے خلاف ملک بھر میں شدید احتجاجی مظاہرے دیکھنے میں آئے۔ ان مظاہروں کا بنیادی مقصد صدر کی جانب سے اقتدار میں تیسری مدت کے حصول کے لیے آئین میں ترمیم کرنے کی کوششوں کی مخالفت کرنا تھا۔ عوام اور اپوزیشن جماعتوں کا ماننا ہے کہ یہ تبدیلیاں جمہوریت کے لیے خطرہ ہیں اور ملک کو ایک بار پھر سیاسی بحران کی طرف دھکیل سکتی ہیں۔ ملک کے مختلف شہروں میں ہزاروں کی تعداد میں مظاہرین سڑکوں پر نکل آئے اور حکومت مخالف نعرے بازی کی۔ شرکا نے صدر کے اس اقدام کو مطلق العنانیت قرار دیتے ہوئے فوری طور پر آئینی ترمیم کا بل واپس لینے کا مطالبہ کیا۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ ملک کو اس وقت معاشی اور انتظامی اصلاحات کی ضرورت ہے نہ کہ ایسے متنازعہ اقدامات کی جو صرف ایک فرد کی اقتدار میں طوالت کا باعث بنیں۔ مظاہروں کو روکنے کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں اور پولیس نے سخت کارروائی کی۔ دارالحکومت اور دیگر اہم شہروں میں پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی جنہوں نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا۔ اطلاعات کے مطابق پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں جن میں کچھ افراد کے زخمی ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔ سکیورٹی فورسز نے کئی مقامات پر مظاہرین کو گرفتار بھی کیا تاکہ حالات کو مزید خراب ہونے سے روکا جا سکے۔ بین الاقوامی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی کانگو کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر حکومت نے اپوزیشن اور عوام کے ساتھ بات چیت کے ذریعے اس مسئلے کا حل نہ نکالا تو ملک میں عدم استحکام مزید بڑھ سکتا ہے۔ اس وقت کانگو کی سیاست ایک انتہائی نازک موڑ پر ہے اور آنے والے دنوں میں سیاسی تناؤ میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔