World
ایرانی وزیر خارجہ کا دورہ بیجنگ، چین کا خطے میں ممکنہ ثالثی کا کردار
تہران اور بیجنگ کے درمیان سفارتی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور خطے میں امن کی بحالی کے لیے اہم مشاورت کا آغاز ہو گیا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ کے دورہ بیجنگ کا مقصد امریکہ کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں سفارتی راہیں تلاش کرنا ہے۔
تہران اور بیجنگ کے درمیان سفارتی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے اور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے اہم کوششیں شروع کر دی گئی ہیں۔ اسی سلسلے میں ایرانی وزیر خارجہ بیجنگ کے دورے پر روانہ ہو چکے ہیں جہاں وہ چینی قیادت کے ساتھ دوطرفہ تعلقات اور عالمی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کریں گے۔ اس دورے کا بنیادی مقصد تہران اور واشنگٹن کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں سفارتی اور پرامن راستوں کی تلاش کرنا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، چین اس صورتحال میں ایک اہم ثالث کا کردار ادا کر سکتا ہے جو خطے میں استحکام لانے کے لیے انتہائی سودمند ثابت ہو سکتا ہے۔ حالیہ مہینوں میں امریکہ اور ایران کے درمیان تعلقات میں تناؤ میں اضافہ دیکھا گیا ہے، جس کی وجہ سے بین الاقوامی سطح پر تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ ایسے میں ایران اور چین کے درمیان یہ اعلیٰ سطحی رابطہ خطے کی سیاست میں ایک نیا موڑ ثابت ہو سکتا ہے، جہاں بیجنگ ہمیشہ سے مشرق وسطیٰ میں سفارتی حل کا حامی رہا ہے۔ فریقین کی جانب سے امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ اس ملاقات کے ذریعے خطے میں جاری کشیدگی کو کم کرنے کے لیے کوئی قابل عمل لائحہ عمل سامنے آئے گا، جو نہ صرف دونوں ممالک کے مفاد میں ہو گا بلکہ عالمی امن کے لیے بھی ناگزیر ہے۔