LIVE
Loading Breaking News...

ک্যাশ پٹیل کا ایف بی آئی کی نئی بھرتی پالیسی پر دفاع

News Image
وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی کے کاش پٹیل نے پالیسی میں کی جانے والی حالیہ تبدیلیوں کا سینٹ میں پرزور دفاع کیا ہے۔ اس فیصلے کے بعد ناقدین کی طرف سے عملے کی بھرتی کے عمل اور اس کے وقت پر شدید سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف بی آئی) کے اعلیٰ عہدیدار کاش پٹیل نے حالیہ پالیسی میں کی جانے والی اس تبدیلی کا دفاع کیا ہے جس میں مخصوص جرائم جیسے کہ حیوانیت اور جسم فروشی سے متعلق ضوابط میں ردوبدل کیا گیا ہے۔ اس پالیسی تبدیلی نے امریکی سینٹ کے اندر ایک طوفان کھڑا کر دیا ہے اور قانون سازوں کی جانب سے اس پر شدید تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ سینٹ کے حالیہ اجلاس میں اس معاملے پر گرما گرم بحث دیکھنے میں آئی جہاں اراکین نے انتظامیہ سے کڑے سوالات کیے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس طرح کی پالیسی میں تبدیلیوں کا وقت انتہائی تشویشناک ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب وفاقی ادارے کو اپنے نئے ایجنٹس کی بھرتی کے عمل میں شدید چیلنجز اور مشکلات کا سامنا ہے۔ مخالفین کا الزام ہے کہ اس قسم کے اقدامات سے ادارے کی ساکھ اور بھرتی کے معیار پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ ناقدین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ سکیورٹی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں میں اعلیٰ اخلاقی معیار کا برقرار رہنا ملک کی اندرونی سلامتی کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ دوسری جانب، کاش پٹیل اور ان کے حامیوں نے ان الزامات کو رد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ یہ تبدیلیاں موجودہ انتظامی اور قانونی تقاضوں کو مدنظر رکھ کر کی گئی ہیں تاکہ بھرتی کے عمل کو مزید شفاف اور مؤثر بنایا جا سکے۔ ان کا کہنا ہے کہ ادارے کے اندر اصلاحات کا مقصد کسی بھی کمزوری کو دور کرنا اور اہل افراد کو مواقع فراہم کرنا ہے۔ انتظامیہ کا اصرار ہے کہ ان فیصلوں کے پیچھے کوئی منفی ارادہ نہیں بلکہ یہ ادارے کی طویل المدتی بہتری کے لیے ناگزیر تھے۔ اس معاملے پر سیاسی حلقوں اور عوامی سطح پر بھی چہ مگوئیاں جاری ہیں اور آنے والے دنوں میں کانگریس اور سینٹ کی کمیٹیوں میں اس پر مزید بحث متوقع ہے۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ ایف بی آئی جیسے حساس ادارے کے لیے اس قسم کے تنازعات سے بچنا اور شفافیت کو یقینی بنانا انتہائی اہم ہے تاکہ عوام کا اعتماد بحال رہے۔