Business
پاکستان میں پیٹرول اور ڈیزل کی نئی قیمتوں کا اعلان
وفاقی حکومت نے پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا ہے جس کے بعد نئی قیمتیں فوری طور پر نافذ العمل ہوں گی۔ اس اقدام کا مقصد عالمی منڈی کے رجحانات اور مقامی مالیاتی ضروریات کو پورا کرنا ہے۔
وفاقی حکومت نے منگل کے روز پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ کر دیا ہے، جس کے تحت پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 4 روپے 10 پیسے اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 6 روپے 41 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے۔ اس اضافے کے بعد ملک بھر میں پیٹرول کی نئی خوردشی قیمت 384 روپے 34 پیسے جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 415 روپے 83 پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے۔ پٹرولیم ڈویژن کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق یہ نئی قیمتیں بدھ سے لاگو کر دی گئی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ حکومت پیٹرول پر 114 روپے اور ڈیزل پر 100 روپے فی لیٹر ٹیکس اور ڈیوٹیز وصول کرنا جاری رکھے ہوئے ہے۔ یاد رہے کہ عالمی منڈی بالخصوص مشرق وسطیٰ اور ایران امریکہ کشیدگی کے بعد سے تیل کی قیمتوں میں مسلسل اتار چڑھاؤ دیکھا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے حکومت کو قیمتوں میں ردوبدل کرنا پڑ رہا ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے اس سے قبل موٹر سائیکل، رکشہ اور 800 سی سی تک کی چھوٹی گاڑیوں کے مالکان کے لیے ریلیف اسکیم کا اعلان بھی کیا تھا تاکہ مہنگائی کے اس دور میں نچلے اور متوسط طبقے پر پڑنے والے بوجھ کو کم کیا جا سکے۔ پیٹرولیم وزارت کے مطابق، عالمی منڈی کی غیر یقینی صورتحال کے پیش نظر اوگرا کو بین الاقوامی مارکیٹ کے رجحانات کے تحت قیمتوں کا تعین کرنے کا اختیار دیا گیا ہے۔ پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل پاکستان کی معیشت میں سب سے بڑی آمدنی کا ذریعہ سمجھے جاتے ہیں، جن کی ماہانہ فروخت لاکھوں ٹن تک پہنچتی ہے۔ پیٹرول عام طور پر نجی ٹرانسپورٹ، موٹر سائیکلوں اور چھوٹی گاڑیوں میں استعمال ہوتا ہے، اس لیے اس کی قیمتوں میں ردوبدل سے براہ راست متوسط اور نچلے طبقے کے افراد متاثر ہوتے ہیں۔ دوسری جانب، ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا اثر بھی پورے ملک پر پڑتا ہے کیونکہ یہ ہیوی ٹرانسپورٹ، مال بردار گاڑیوں اور زرعی ٹیوب ویلز میں بڑے پیمانے پر استعمال کیا جاتا ہے۔ معاشی ماہرین کا ماننا ہے کہ عالمی منڈی میں جب تک تیل کی سپلائی کا بحران حل نہیں ہوتا، مقامی سطح پر قیمتوں میں یہ اتار چڑھاؤ جاری رہنے کا امکان ہے۔