LIVE
Loading Breaking News...

ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران سے مذاکرات اور گوگل پر کڑے وار کا اعلان

News Image
سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اشارہ دیا ہے کہ تہران کے ساتھ بات چیت کے دروازے کھلے ہیں اور ایران جلد معاہدہ کرنا چاہتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے آبنائے ہرمز کے معاملات پر معاوضے کا مطالبہ کرتے ہوئے ٹیکنالوجی کمپنی گوگل کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
واشنگٹن (نیکصرا نیوز اردو) امریکہ کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران کے ساتھ تعلقات اور ممکنہ مذاکرات کے حوالے سے اہم بیانات دیے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکہ ایران کے ساتھ ایک نئے اور جامع معاہدے پر بات چیت کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔ ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ موجودہ ملکی اور عالمی حالات کی وجہ سے تہران حکومت اب امریکہ کے ساتھ جلدی سے جلدی کوئی ڈیل طے کرنا چاہتی ہے۔ یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی پابندیاں بدستور سخت ہیں اور مشرق وسطیٰ بالخصوص آبنائے ہرمز کے قریب کشیدگی کی فضا برقرار ہے۔ اس کے ساتھ ہی ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کے امور پر سخت مؤقف اپناتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ اس اہم بحری گزرگاہ کے حوالے سے امریکہ کو اس کا معاوضہ ملنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی بحریہ اور فورسز خطے میں عالمی تجارت بالخصوص تیل کی ترسیل کے تحفظ کے لیے جو خدمات انجام دے رہی ہیں، اس کا مالیاتی توازن ہونا چاہئے۔ مبصرین کے مطابق، ٹرمپ کا یہ مطالبہ ان کی روایتی 'امریکہ فرسٹ' پالیسی کا تسلسل ہے، جس کے تحت وہ بین الاقوامی سیکیورٹی ذمہ داریوں کے بدلے اتحادیوں یا فریقین سے معاشی فوائد حاصل کرنے پر زور دیتے ہیں۔ اپنے حالیہ بیانات میں ڈونلڈ ٹرمپ نے صرف خارجہ امور تک خود کو محدود نہیں رکھا بلکہ معروف ٹیکنالوجی کمپنی گوگل کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے گوگل پر الزام عائد کیا کہ یہ ادارہ انتخابی عمل اور اطلاعات کی فراہمی میں جانبداری سے کام لے رہا ہے اور ان کے خلاف غیر منصفانہ رویہ اپنائے ہوئے ہے۔ ٹرمپ اور ان کے حامیوں کی جانب سے ماضی میں بھی بڑی ٹیک کمپنیوں کو اس طرح کے چیلنجز کا سامنا رہا ہے، اور حالیہ بیان نے ایک بار پھر سلیکن ویلی اور سیاسی قیادت کے درمیان بحث کو ہوا دے دی ہے۔ بین الاقوامی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کے یہ بیانات آنے والے دنوں میں امریکی خارجہ پالیسی اور کارپوریٹ سیکٹر دونوں کے لیے اہم اثرات کے حامل ہو سکتے ہیں۔ جہاں ایک طرف ایران کے ساتھ ممکنہ مذاکرات کی راہ تلاش کی جا رہی ہے، وہیں آبنائے ہرمز میں کشیدگی اور ٹیکنالوجی کی دنیا پر تنقید امریکی سیاست کے مرکزی موضوعات بنے ہوئے ہیں۔ تمام فریقین کی جانب سے ان بیانات پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے تاکہ خطے کے مستقبل کی سمت کا اندازہ لگایا جا سکۓ۔