LIVE
Loading Breaking News...

مصنوعی ذہانت پر بحث: اینتھروپک اور اینویڈیا کے مؤقف میں بڑا تضاد

News Image
ٹیکنالوجی کی دنیا میں مصنوعی ذہانت کے مستقبل کو لے کر اہم شخصیات میں شدید اختلافات سامنے آئے ہیں۔ اینتھروپک کے سربراہ نے احتیاط برتنے کی اپیل کی ہے جبکہ اینویڈیا کی جانب سے اس شعبے میں مزید تیزی لانے پر زور دیا جا رہا ہے۔
مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی (AI) کی تیز رفتار ترقی نے جہاں دنیا بھر میں انقلاب برپا کر رکھا ہے، وہیں اب اس ٹیکنالوجی کے مستقبل اور رفتار کے حوالے سے خود صنعت کے اندر ہی شدید اختلافات اور بحث کا آغاز ہو چکا ہے۔ تازہ ترین پیش رفت کے مطابق، معروف آرٹیفیشل انٹیلی جنس کمپنی 'اینتھروپک' (Anthropic) کے چیف ایگزیکٹو نے مطالبہ کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کی ترقی کی رفتار کو کچھ سست کیا جانا چاہیے تاکہ اس کے ممکنہ خطرات کا اندازہ لگایا جا سکے اور حفاظتی اقدامات کو یقینی بنایا جا سکے۔ ان کا ماننا ہے کہ ٹیکنالوجی کی اندھا دھند دوڑ انسانیت کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔ دوسری جانب، چپ سازی کی دنیا کی صف اول کی کمپنی 'اینویڈیا' (Nvidia) نے بالکل برعکس مؤقف اختیار کرتے ہوئے مصنوعی ذہانت کی ترقی میں مزید تیزی لانے پر زور دیا ہے۔ اینویڈیا کا کہنا ہے کہ اے آئی کی صلاحیتوں کو کھل کر سامنے لانے اور معاشی فوائد حاصل کرنے کے لیے رفتار کو مزید تیز کرنا انتہائی ضروری ہے۔ اس باہم متضاد مؤقف نے پوری ٹیک انڈسٹری کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا ہے جہاں ایک طرف احتیاط اور ضابطہ بندی کی بات ہو رہی ہے تو دوسری طرف لامحدود ترقی اور جدت کا نعرہ بلند کیا جا رہا ہے۔ اس بحث کو اس وقت مزید ہوا ملی جب حال ہی میں کچھ اہم محققین نے 'آؤٹ آف کنٹرول' اے آئی کے خطرات کے پیش نظر اپنے عہدوں سے استعفیٰ بھی دے دیا۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں حکومتوں اور ریگولیٹرز پر دباؤ بڑھے گا کہ وہ مصنوعی ذہانت کی ترقی کے لیے واضح عالمی ضابطے مرتب کریں تاکہ ایک طرف جدت بھی رکے نہ اور دوسری طرف انسانیت کو کسی بڑے خطرے سے بھی محفوظ رکھا جا سکے۔