Business
امریکی سینیٹ میں کرپٹو بل مسترد، انڈسٹری کو دھچکا
امریکی سینیٹ میں کرپٹو کرنسی سے متعلق ایک اہم اور جامع بل کو آگے بڑھانے کی کوشش ناکام ہو گئی ہے، جسے کرپٹو انڈسٹری کے لیے ایک بڑا دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔ اس ناکامی کے بعد مارکیٹ میں بٹ کوائن کی قیمتوں میں بھی اتار چڑھاؤ دیکھا گیا ہے۔
امریکی سینیٹ میں کرپٹو کرنسی کے شعبے سے متعلق ایک جامع قانون سازی کا بل منظور کرانے کی کوشش ناکام ہو گئی ہے، جسے ڈیجیٹل اثاثہ جات کی انڈسٹری کے لیے ایک بڑا دھچکا سمجھا جا رہا ہے۔ کانگریس کے ذرائع کے مطابق قانون سازوں کے درمیان اس بل پر اتفاق رائے پیدا نہیں ہو سکا، جس کی وجہ سے اسے آگے بڑھانے کی راہ میں رکاوٹیں حائل رہیں۔ اس پیش رفت نے ایک ایسے وقت میں جنم لیا ہے جب سیاسی حلقوں اور انڈسٹری کے ماہرین کے مابین ضابطہ کار کے نفاذ پر بحث جاری ہے۔
رپورٹس کے مطابق اس بل کے حوالے سے ریپبلکن اور ڈیموکریٹک ارکان کے درمیان کوششیں کی جا رہی تھیں کہ اسے حمایت حاصل ہو۔ یہاں تک کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بھی کرپٹو کلیئرٹی ایکٹ کے اخلاقی تقاضوں پر اتفاق کی خبریں سامنے آئیں تاکہ ڈیموکریٹک ارکان کی ووٹنگ کو یقینی بنایا جا سکے، تاہم سینیٹ میں مطلوبہ حمایت حاصل نہ ہو سکی۔ اس سیاسی و قانونی تعطل کے فورا بعد مارکیٹ پر بھی فوری اثرات مرتب ہوئے اور بٹ کوائن کی قیمت میں فیوچر میٹنگز سے پہلے معمولی کمی دیکھی گئی جو کہ چھہتر ہزار دو سو ڈالر تک آ گئی۔
کرپٹو انڈسٹری طویل عرصے سے امریکہ میں واضح اور شفاف ضابطہ کار کی خواہاں رہی ہے تاکہ سرمایہ کاروں کو تحفظ مل سکے اور مارکیٹ میں استحکام آ سکے۔ تاہم ریگولیٹری فریم ورک کی عدم موجودگی اور سیاسی مصلحتوں کی وجہ سے اس قسم کے اہم بلز کا منظور ہونا مشکل ثابت ہو رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس ناکامی کے بعد آنے والے دنوں میں ڈیجیٹل کرنسی کے حوالے سے پالیسی سازی کا عمل مزید سست روی کا شکار ہو سکتا ہے جس سے مارکیٹ کے شرکاء میں بھی بے یقینی بڑھے گی۔