World
رومانیہ میں کسانوں کا احتجاج اور پولیس سے تصادم، درجنوں زخمی
رومانیہ میں مویشیوں کی برآمد پر پابندی کے توسیع کے خلاف ہونے والے احتجاج کے دوران کسانوں اور پولیس میں شدید جھڑپیں ہوئیں۔ اس پرتشدد احتجاج میں دو ہزار کے قریب کسانوں نے حصہ لیا جنہیں دائیں بازو کے گروہوں کی حمایت بھی حاصل تھی۔
رومانیہ کے دارالحکومت اور مختلف علاقوں میں مویشیوں کی برآمد پر عائد پابندی میں توسیع کے خلاف ہونے والا احتجاج اس وقت پرتشدد روپ اختیار کر گیا جب ہزاروں کسانوں اور پولیس کے درمیان شدید جھڑپیں شروع ہو گئیں۔ ان جھڑپوں کے نتیجے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں سمیت درجنوں افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ یہ مظاہرہ اس وقت شدت اختیار کر گیا جب کسانوں نے حکومتی پالیسیوں کے خلاف سخت نعرے بازی کی اور سڑکوں پر رکاوٹیں کھڑی کرنے کی کوشش کی۔
موصولہ اطلاعات کے مطابق اس احتجاجی مظاہرے میں تقریباً دو ہزار کسانوں نے شرکت کی، جنہیں ملک کے بعض سخت گیر اور دائیں بازو کے سیاسی گروہوں کی بھرپور حمایت بھی حاصل تھی۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ مویشیوں کی برآمد پر پابندی کی توسیع سے رومانیہ کے کسانوں اور چرواہوں کی معاشی حالت تباہ ہو رہی ہے اور حکومت کو فوری طور پر اس فیصلے کو واپس لینا چاہیے۔ کسانوں کے مطابق یہ پابندی ان کے روزگار پر براہ راست حملہ ہے اور اس سے دیہی معیشت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ رہا ہے۔
احتجاج کے دوران صورتحال اس وقت قابو سے باہر ہو گئی جب مشتعل مظاہرین نے پولیس کی صفوں کو توڑنے کی کوشش کی، جس کے جواب میں سکیورٹی فورسز نے ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا۔ اس دوران فریقین کے درمیان ہاتھا پائی بھی ہوئی اور آنسو گیس کے استعمال کے باعث کئی افراد کو سانس لینے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔ حکام نے اس پرتشدد صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے جبکہ مظاہرین نے اپنے مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔