World
افریقی سیاست: صدارتی مدت کی حدود اور عوامی ردعمل
جمہوری جمہوریہ کانگو میں صدر کی مدتِ صدارت میں توسیع کی ممکنہ قانون سازی کے خلاف شدید احتجاج کیا جا رہا ہے۔ افریقی خطے میں قائدین کی جانب سے اختیارات کو طول دینے کے اس رجحان پر عوام اور بین الاقوامی حلقوں میں تشویش پائی جاتی ہے۔
جمہوری جمہوریہ کانگو (ڈی آر سی) میں حالیہ دنوں کے دوران ایک ایسے قانون کے خلاف شدید احتجاج دیکھا جا رہا ہے جو مبینہ طور پر ملک کے صدر کی مدتِ صدارت میں توسیع کا باعث بن سکتا ہے۔ اس صورتحال نے ایک بار پھر اس اہم سوال کو جنم دیا ہے کہ افریقی خطے کے کچھ رہنما سیاسی اور آئینی حدود کو تبدیل کرنے کا جوا کیوں کھیلتے ہیں اور اس سے جمہوریت کے مستقبل پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق، دارالحکومت اور دیگر اہم شہروں میں شہری سڑکوں پر نکل آئے ہیں اور اس قانون سازی کے خلاف شدید نعرے بازی کی جا رہی ہے۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ اقتدار پر طویل عرصے تک قابض رہنے کی کوششیں بنیادی جمہوری اصولوں اور آئین کی روح کے سراسر منافی ہیں۔ ناقدین کا ماننا ہے کہ جب رہنما آئینی مدت کی حدود کو ختم کرنے یا ان میں من مانی تبدیلیاں کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو اس سے سیاسی عدم استحکام، بدامنی اور اداروں کے زوال کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ افریقی تاریخ میں اس طرح کے مواقع پر اکثر تنازعات نے جنم لیا ہے جن کے معاشی اور معاشرتی اثرات پوری ریاست پر مرتب ہوتے ہیں۔ بین الاقوامی مبصرین اور انسانی حقوق کی تنظیمیں بھی اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور اس بات پر زور دے رہی ہیں کہ جمہوری عمل کی شفافیت کو برقرار رکھا جائے اور عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ افریقہ میں طویل المدتی حکومتوں کا تسلسل عوامی فلاح و بہبود کے بجائے ذاتی اور سیاسی مفادات کے تحفظ کی علامت بنتا جا رہا ہے، جس کے خلاف اب عامتہ الناس میں سیاسی شعور اور مزاحمت میں اضافہ ہو رہا ہے۔