LIVE
Loading Breaking News...

مغربی انٹیلی جنس کی ایرانی اسپائی ویئر کے خلاف وارننگ

News Image
مغربی انٹیلی جنس ایجنسیوں نے ایک خطرناک نئے اسپائی ویئر کی نشاندہی کی ہے جو بیرون ملک ایرانی حکومت کے ناقدین کو نشانہ بنا رہا ہے۔ اس سابر حملے کے پیچھے تہران سے وابستہ ہیکنگ گروپس کا ہاتھ ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
مغربی انٹیلی جنس ایجنسیوں نے حال ہی میں ایک سنگین سابر خطرے سے پردہ اٹھایا ہے جس کے مطابق 'چوزن برک' (CHOSEN BRICK) نامی ایک پیچیدہ اسپائی ویئر بیرون ملک مقیم ایرانی حکومت کے ناقدین اور مخالفین کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ اس نئی پیش رفت نے بین الاقوامی سطح پر ڈیجیٹل سیکیورٹی کے حوالے سے ایک بار پھر تشویش کی لہر دوڑا دی ہے، کیونکہ یہ ٹیکنالوجی سیاسی کارکنوں اور صحافیوں کی جاسوسی کے لیے استعمال کی جا رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق، اس نوعیت کے سابر حملے طویل عرصے سے منصوبہ بندی کے تحت کیے جاتے ہیں جن کا مقصد اختلافِ رائے کو کچلنا اور دنیا بھر میں سرگرم ایرانی مخالفین کی نقل و حرکت کو مانیٹر کرنا ہے۔ انٹیلی جنس رپورٹس سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ اس حملے کے پیچھے ایسے گروپس کارفرما ہیں جن کے تعلقات تہران سے بتائے جاتے ہیں۔ یہ اسپائی ویئر ہدف بنائے گئے افراد کے کمپیوٹرز اور موبائل فونز میں گھس کر حساس معلومات چرانے کی صلاحیت رکھتا ہے، جس میں ذاتی پیغامات، تصاویر اور رابطے کی تفصیلات شامل ہیں۔ سابر سیکیورٹی ماہرین نے بیرون ملک مقیم تمام ایرانی کارکنوں اور تارکین وطن کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے ڈیجیٹل آلات کی سیکیورٹی کو مزید سخت کریں اور کسی بھی مشکوک ای میل یا لنک پر کلک کرنے سے گریز کریں۔ مغربی ممالک کی حکومتیں اس معاملے پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور اس بات کا جائزہ لیا جا رہا ہے کہ اس سابر خطرے سے نمٹنے کے لیے بین الاقوامی سطح پر کیا جوابی اقدامات کیے جائیں، تاکہ ڈیجیٹل اسپیس کو مزید محفوظ بنایا جا سکے۔