LIVE
Loading Breaking News...

امریکی اسپیکر کا اے آئی پالیسی پر اہم بیان، چین سے سبقت کا خطرہ

News Image
امریکی قیادت نے مصنوعی ذہانت پر کسی بھی قسم کی پابندی یا کام روکنے کے خدشات کو مسترد کر دیا ہے۔ اس خبردار کیا گیا ہے کہ ترقی کی رفتار سست کرنے سے امریکہ کو عالمی تکنیکی مسابقت میں چین کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
امریکہ کے سیاسی حلقوں میں مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی (AI) کی ترقی اور اس کی رفتار کو قابو کرنے کے معاملے پر بحث جاری ہے۔ اس دوران امریکہ کی اعلیٰ قیادت نے مصنوعی ذہانت کے حوالے سے پائے جانے والے خوف اور خدشات کو سرے سے مسترد کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق موجودہ حفاظتی انتظامات اور پالیسیاں اس ٹیکنالوجی کے محفوظ استعمال کے لیے مکمل طور پر کافی تصور کی جا رہی ہیں، اور اس شعبے میں کسی بھی قسم کی تاخیر کو ملکی مفاد کے خلاف قرار دیا گیا ہے۔ اس حوالے سے واضح کیا گیا ہے کہ اگر امریکہ نے مصنوعی ذہانت کی تحقیق اور ترقیاتی عمل کو سست کیا یا اس پر عارضی پابندی عائد کی، تو اس کا براہ راست فائدہ حریف ممالک بالخصوص چین کو حاصل ہوگا۔ عالمی سطح پر اس وقت امریکہ اور چین کے درمیان ٹیکنالوجی کی جنگ عروج پر ہے، جہاں دونوں ممالک مصنوعی ذہانت کے شعبے میں سب سے آگے نکلنے کے لیے کوشاں ہیں۔ اس تناظر میں امریکی پالیسی سازوں کا مؤقف ہے کہ رفتار کو دھیما کرنے کا مطلب چین کو تکنیکی میدان میں فیصلہ کن برتری دینا ہوگا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت کا مستقبل عالمی معیشت اور عسکری طاقت دونوں کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ میں اس شعبے کو کھلا میدان فراہم کرنے پر زور دیا جا رہا ہے تاکہ ملکی صنعتیں جدت طرازی میں دنیا بھر میں سرفہرست رہ سکیں۔ ناقدین کے خدشات کے باوجود، حکومتی اور سیاسی سطح پر یہ عزم ظاہر کیا گیا ہے کہ امریکہ اس اہم ترین تکنیکی دوڑ میں کسی بھی قیمت پر پیچھے نہیں رہے گا اور اپنی قائدانہ پوزیشن برقرار رکھے گا۔