Pakistan
وزیراعظم فیٔول ریلیف اسکیم ملک بھر میں بدھ کی رات سے شروع
وزیراعظم کے فیٔول ریلیف پیکج کے تحت موٹر سائیکل، رکشہ اور آٹھ سو سی سی تک کی گاڑیوں کے مالکان کو پٹرول پر سبسڈی دی جائے گی۔ اس ملک گیر اسکیم کا باضابطہ آغاز بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب کیا جا رہا ہے جس کے لیے تمام انتظامی تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔
وزیراعظم کے فیٔول ریلیف اسکیم کا ملک بھر میں نفاذ بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب بارہ بجے کیا جا رہا ہے، جس کے لیے حکومت نے تمام ضروری انتظامی انتظامات حتمی شکل دے دیے ہیں۔ ڈپٹی وزیراعظم کے دفتر سے جاری کردہ بیان کے مطابق اس عوامی فلاحی اسکیم کا مقصد بڑھتی ہوئی مہنگائی کے دور میں عام آدمی کو ریلیف فراہم کرنا ہے۔ اتوار کے روز وزیراعظم شہباز شریف نے موٹر سائیکل، رکشہ اور آٹھ سو سی سی تک کی چھوٹی گاڑیوں کے مالکان کے لیے اس خصوصی ریلیف پیکیج کا اعلان کیا تھا، جس سے لاکھوں شہریوں کو براہ راست مالی مدد ملے گی۔
اس منصوبے کے تحت دو اور تین پہیوں والی گاڑیوں کے مالکان کو بیس لیٹر کے ماہانہ کوٹے پر ایک سو روپے فی لیٹر سبسڈی دی جائے گی، جبکہ آٹھ سو سی سی تک کی گاڑیوں کے مالکان تیس لیٹر کے ماہانہ کوٹے پر اسی شرح سے امداد حاصل کر سکیں گے۔ ڈپٹی وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی زیر صدارت منعقدہ ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس میں اس اسکیم کے انتظامی امور کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کو بریفنگ دی گئی کہ اسلام آباد میں پہلے ہی فعال ہونے والی یہ اسکیم مقررہ وقت پر پورے پاکستان میں پھیلائی جا رہی ہے، اور شہری 9771 پر ایس ایم ایس کے ذریعے اپنی رجسٹریشن کروا سکتے ہیں۔
ڈپٹی وزیراعظم اسحاق ڈار نے زور دیا کہ رجسٹریشن کا عمل انتہائی سادہ اور عام شہریوں کی پہنچ میں ہونا چاہیے تاکہ حقدار افراد اس سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھا سکیں۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ پٹرول پمپس پر عوام کی سہولت اور پٹرولیم مصنوعات کی فراہمی کے لیے موثر اقدامات کیے جائیں۔ اس کے علاوہ وزیر اعظم کے یوتھ پروگرام کے رضاکاروں کو بھی پبلک آؤٹ ریچ اور رجسٹریشن کے عمل میں شامل کرنے کی ہدایت جاری کی گئی ہے تاکہ ملک کے دور دراز علاقوں تک معلومات بروقت پہنچ سکیں۔
عالمی سطح پر مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور تیل سپلائی کے اہم راستوں میں تعطل کی وجہ سے گزشتہ چند ماہ کے دوران پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ اسی پس منظر میں حکومت نے عام طبقے پر بوجھ کم کرنے کے لیے یہ اہم قدم اٹھایا ہے۔ نیشنل اسٹیئرنگ کمیٹی آن فیٔول سبسڈی کے اجلاس میں یہ بھی طے پایا کہ پٹرول پمپس کو ادائیگیوں کا عمل اسٹیٹ بینک کے ذریعے چوبیس گھنٹوں کے اندر یقینی بنایا جائے گا، جبکہ صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ضلعی سطح پر اس اسکیم کی نگرانی کریں تاکہ شفافیت برقرار رہے۔