LIVE
Loading Breaking News...

امریکہ کی خلا میں ہتھیاروں کی تعیناتی، روس اور چین کی جانب سے وارننگ

News Image
امریکہ نے پہلی بار خلا میں اپنے دفاعی ہتھیاروں کی موجودگی کی باضابطہ تصدیق کر دی ہے جس پر چین اور روس نے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ اس اقدام سے عالمی طاقتوں کے درمیان خلائی تسلط کی دوڑ تیز ہونے اور تناؤ میں اضافے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
واشنگٹن: امریکہ نے منگل کے روز پہلی بار باضابطہ طور پر تصدیق کی ہے کہ واشنگٹن نے خلا میں ہتھیار وں کو تعینات کر دیا ہے۔ اس تصدیق کے بعد چین نے بیرونی خلا کو میدان جنگ میں تبدیل کرنے کے خلاف سخت وارننگ جاری کی ہے جبکہ روس کا کہنا ہے کہ خلا کو ہر قسم کے ہتھیاروں سے پاک رہنا چاہیے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق واشنگٹن کے اس اعتراف نے ایک ایسے کھلے راز کی تصدیق کی ہے جو پہلے ہی زیر بحث تھا، تاہم اس اعلان کے وقت نے بیجنگ کے ساتھ تناؤ اور خلا میں ہتھیاروں کی دوڑ کے خطرات کو مزید بڑھا دیا ہے۔ یہ اعلان بڑی طاقتوں کی جانب سے فوجی خلائی صلاحیتوں کے حصول کی دوڑ میں ایک نئے مرحلے کی نشان دہی کرتا ہے۔ امریکہ کی اسپیس فورس کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا کہ امریکہ کے پاس مدار میں ایسی خلائی کنٹرول صلاحیتیں موجود ہیں جو مشترکہ فورس کو کسی بھی دشمنانہ کارروائی سے بچانے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ تاہم اس بیان میں ہتھیاروں کی نوعیت اور تعداد کے بارے میں کوئی تفصیلی معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔ دوسری طرف چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے اس اقدام کی شدید مخالفت کرتے ہوئے بیرونی خلا کی عسکریت پسندی اور اسے میدان جنگ بنانے کے خلاف خبردار کیا۔ روسی کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے بھی زور دیا کہ ماسکو خلا کی مکمل غیر عسکریت پسندی کے لیے بین الاقوامی سطح پر کوششوں کا خواہاں ہے۔ امریکہ کا مؤقف ہے کہ اس کے جیو پولیٹیکل حریف یعنی روس اور چین دونوں ہی خلائی شعبے میں امریکی مفادات کے لیے ممکنہ خطرہ ہیں۔ امریکہ کا الزام ہے کہ چین اپنی فوجی جدید کاری کی حکمت عملی کے تحت خلائی صلاحیتیں تیار کر رہا ہے جبکہ روس خلا کو جنگی میدان سمجھتا ہے۔ دوسری جانب ماہرین کا کہنا ہے کہ 1967 کے بیرونی خلا کے معاہدے میں صرف بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے جوہری ہتھیاروں پر پابندی عائد ہے، جس کی وجہ سے روایتی یا سائنٹک ہتھیاروں کے حوالے سے ایک قانونی خلا موجود ہے جو عالمی امن کے لیے چیلنج بن سکتا ہے۔