LIVE
Loading Breaking News...

غزہ ملبے سے لاشوں کی برآمدگی اور جنگی جرائم کے خدشات

News Image
اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ نے غزہ میں تباہ شدہ عمارتوں کے ملبے سے سیکڑوں لاشیں ملنے پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس ہولناک صورتحال نے ممکنہ جنگی جرائم کے حوالے سے نئے سوالات اٹھا دیے ہیں۔
اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ نے منگل کے روز کہا ہے کہ غزہ میں اسرائیلی بمباری سے تباہ ہونے والی عمارتوں کے ملبے سے سیکڑوں لاشوں کی برآمدگی نے ممکنہ جنگی جرائم کے بارے میں نئے اور شدید خدشات کو جنم دیا ہے۔ وولکر ٹرک کا کہنا تھا کہ ایسے آثار ملے ہیں کہ تباہ شدہ مقامات سے پورے کے پورے خاندانوں کی باقیات نکالی جا رہی ہیں، جن میں بڑی تعداد میں خواتین اور معصوم بچے بھی شامل ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ انتہائی دل دہلا دینے والی بات ہے کہ جو لوگ اتنے طویل عرصے سے اپنے پیاروں کی تلاش میں تھے، اب ان کے بدترین خدشات سچ ثابت ہو رہے ہیں اور انہیں اپنے پیاروں کی لاشیں مل رہی ہیں۔ اس حوالے سے بتایا گیا ہے کہ انکشافات نے اقوام متحدہ کی 2024 کی اس رپورٹ کی یاد تازہ کر دی ہے جس میں کہا گیا تھا کہ جنگ کے ابتدائی ہفتوں کے دوران رہائشی عمارتوں اور دیگر شہری تنصیبات پر اسرائیلی حملے بین الاقوامی انسانی قانون کی خلاف ورزی ہو سکتے ہیں۔ تاہم، اس تمام صورتحال پر اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر اور وزارتِ خارجہ کی جانب سے فوری طور پر کوئی تبصرہ سامنے نہیں آیا۔ اسرائیل روایتی طور پر اس بات کی تردید کرتا رہا ہے کہ وہ دانستہ طور پر شہریوں کو نشانہ بناتا ہے اور اس کا موقف ہے کہ اس کی کارروائیاں بین الاقوامی قوانین کے عین مطابق تھیں۔ اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق، اکتوبر 2023 سے شروع ہونے والی اس تباہ کن جنگ کے بعد سے غزہ میں تقریباً 61 ملین ٹن ملبہ جمع ہو چکا ہے جسے ہٹانے میں کم و بیش سات سال کا عرصہ لگ سکتا ہے۔ فلسطینی سول دفاع کے مطابق، نومبر 2025 کے بعد سے غزہ بھر میں تباہ شدہ عمارتوں کے نیچے سے 630 سے زائد لاشیں اور انسانی باقیات نکالی جا چکی ہیں، جبکہ فلسطینی حکام کا اندازہ ہے کہ اب بھی 8 ہزار سے زائد افراد ملبے تلے دبے ہو سکتے ہیں۔ ولکر ٹرک نے اس بات کا بھی خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اب تک برآمد ہونے والی باقیات محض 'آئس برگ کا سرہ' ہو سکتی ہیں کیونکہ غزہ کا ایک بہت بڑا حصہ اسرائیلی بمباری سے مکمل طور پر مٹی کا ڈھیر بن چکا ہے۔ انہوں نے عالمی برادری اور تحقیقاتی اداروں سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ انہیں غزہ کے تمام حصوں تک رسائی دی جائے تاکہ شواہد کو محفوظ بنایا جا सके اور جنگ کے دوران ہونے والی کارروائیوں کی شفاف تحقیقات میں مدد مل سکے۔