World
امریکہ ایران جنگ: پینٹاگون رپورٹ میں اسلحے کی قلت کی تصدیق
امریکہ کے محکمہ دفاع پینٹاگون کے انسپکٹر جنرل کی جاری کردہ پہلی رپورٹ میں تصدیق کی گئی ہے کہ ایران کے خلاف جنگ کے نتیجے میں امریکی فوج کے اسلحے کے اسٹریٹجک ذخائر میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔ اس تنازع کے دوران مجموعی طور پر اربوں ڈالر مالیت کا اسلحہ استعمال کیا گیا جس سے امریکی صنعتی بنیادوں پر بھی دباؤ بڑھا۔
واشنگٹن: امریکہ نے باضابطہ طور پر اس بات کا اعتراف کر لیا ہے کہ ایران کے خلاف حالیہ جنگ کے نتیجے میں ملک کے اسٹریٹجک اسلحے کے ذخائر میں شدید کمی واقع ہوئی ہے اور اس سے اسلحے کی دوبارہ فراہمی کے لیے صنعتی بنیادوں میں موجود رکاوٹیں بھی کھل کر سامنے آ گئی ہیں۔ یہ اعتراف پینٹاگون کے انسپکٹر جنرل کی جانب سے جاری کردہ اس پہلی رپورٹ میں کیا گیا ہے جو امریکہ اور اسرائیل کے ایران کے ساتھ تنازع کے حوالے سے تیار کی گئی ہے۔ پیر کے روز جاری ہونے والی یہ رپورٹ اس فوجی مہم کے اخراجات، ہونے والے نقصانات اور امریکی ہتھیاروں کے ذخائر پر پڑنے والے اثرات کا تفصیلی احاطہ کرتی ہے، جس نے ان خدشات کی بھی تصدیق کر دی ہے جن کا اظہار خبری ادارے پچھلے کئی ماہ سے کر رہے تھے۔ رپورٹ کے مطابق، اس فوجی مہم میں پچاس ہزار سے زائد امریکی فوجیوں نے حصہ لیا جنہوں نے ہزاروں جنگی پروازیں کیں اور بائیس اعشاریہ تین ارب ڈالر مالیت کا اسلحہ استعمال کیا۔ انسپکٹر جنرل کی یہ رپورٹ اٹھائیس فروری سے تیس جون کے درمیان کے عرصے کا احاطہ کرتی ہے اور اس کے مطابق جنگ کے براہ راست اخراجات لگ بھگ تینتیس اعشاریہ چار ارب ڈالر رہے۔ اس کل رقم میں سے بائیس اعشاریہ تین ارب ڈالر صرف اسلحے پر خرچ کیے گئے، جبکہ تین اعشاریہ سات ارب ڈالر سازوسامان کے نقصانات اور سات اعشاریہ چار ارب ڈالر دیگر اخراجات کی مد میں گئے۔ تاہم اس تخمینے میں تباہ شدہ تنصیبات کی مرمت، ہوائی جہازوں کی تبدیلی یا اہم ہتھیاروں کے ذخائر کو دوبارہ بھرنے کے اخراجات شامل نہیں ہیں۔ اسی فرق کی وجہ سے پینٹاگون کے تخمینے مختلف رہے ہیں۔ جولائی کے آخر میں امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے کانگریس کو بتایا تھا کہ اس جنگ کی وجہ سے محکمہ دفاع کو اڑتیس اعشاریہ پانچ ارب ڈالر کا خرچ برداشت کرنا پڑا۔ اس کے علاوہ این بی سی نیوز نے رپورٹ کیا تھا کہ اندرونی تخمینوں سے واقف حکام کے مطابق حتمی لاگت اسی سے ایک سو ارب ڈالر کے درمیان ہو سکتی ہے۔ ان بلند تخمینوں میں غالباً وہ اخراجات بھی شامل تھے جو انسپکٹر جنرل کے چار ماہ کے حساب کتاب میں شامل نہیں کیے گئے تھے۔ رپورٹ میں اس بات کی بھی تصدیق کی گئی ہے کہ ایرانی حملوں کے نتیجے میں کویت، بحرین، قطر، متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، عراق، اومان اور اردن میں قائم امریکی اڈوں پر سیکڑوں عمارات اور دیگر ڈھانچے شدید متاثر یا تباہ ہوئے۔ اس دوران درجنوں امریکی طیارے اور ڈرون تباہ یا نقصان کا شکار ہوئے، جبکہ بحرین میں امریکی بحریہ کا مرکزی لاجسٹکس حب بھی حملوں کی زد میں آیا۔ پینٹاگون کا کہنا ہے کہ محکمہ دفاع اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے خریداری کے عمل کو تیز کر رہا ہے اور اہم مواد کے ذخائر کو مضبوط بنایا جا رہا ہے تاکہ مستقبل میں کسی بھی ہنگامی صورتحال سے فوری طور پر نمٹا جا سکے۔