Sports
محسن نقوی سے ٹرافی نہ لینے پر بھارتی بورڈ کا بیان سامنے آ گیا
بی سی سی آئی کے نائب صدر راجیو شکلا نے انکشاف کیا ہے کہ ایشین کرکٹ کونسل کے سربراہ محسن نقوی کو بھارتی خواتین ٹیم کی جانب سے ٹرافی وصول نہ کرنے پر کوئی اعتراض نہیں تھا۔ یہ فیصلہ بھارتی بورڈ کا اجتماعی تھا جو کہ دونوں ممالک کے درمیان جاری پالیسی کے تحت کیا گیا۔
ایشین کرکٹ کونسل (اے سی سی) کے چیئرمین محسن نقوی کو بھارتی خواتین کرکٹ ٹیم کی جانب سے ایشیا کپ کی ٹرافی وصول کرنے سے انکار پر کوئی اعتراض نہیں تھا۔ یہ بات بورڈ آف کنٹرول فار کرکٹ ان انڈیا (بی سی سی آئی) کے نائب صدر راجیو شکلا نے پیر کے روز اپنے ایک بیان میں کہی۔ یاد رہے کہ اتوار کے روز دبئی میں کھیلے گئے فائنل میں بھارت نے سری لنکا کو 72 رنز سے شکست دے کر ویمنز ایشیا کپ کا ٹائٹل اپنے نام کیا تھا، تاہم بھارتی ٹیم نے تقریب کے دوران محسن نقوی سے ٹرافی لینے سے گریز کیا تھا۔ محسن نقوی پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے چیئرمین ہونے کے ساتھ ساتھ وزیر داخلہ بھی ہیں۔ فائنل کے بعد بھارتی بورڈ کے عہدیداروں کی محسن نقوی سے خوشگوار ماحول میں ملاقات پر بھی مختلف حلقوں کی طرف سے تنقید کی گئی تھی، جس کے بعد بی سی سی آئی کے اعلیٰ عہدیداروں کی جانب سے وضاحت سامنے آئی ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق راجیو شکلا نے پریس ٹرسٹ آف انڈیا سے بات کرتے ہوئے واضح کیا کہ ٹرافی وصول نہ کرنے کا فیصلہ بی سی سی آئی کا اپنا اجتماعی فیصلہ تھا اور محسن نقوی نے اس پر کوئی ناپسندیدگی یا اعتراض ظاہر نہیں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم نے آپس میں اس معاملے پر بات چیت کی تھی اور یہ طے کیا تھا کہ ٹرافی ان کے ہاتھوں سے وصول نہیں کی جائے گی۔ ہم نے اپنی ٹیم کو بھی اس حوالے سے آگاہ کر دیا تھا، جس کے بعد محسن نقوی نے جسے ٹرافی دینی تھی دی اور وہاں سے چلے گئے۔ راجیو شکلا نے اس بات پر بھی زور دیا کہ بی سی سی آئی سیکرٹری دیواجیت سائیکا کی میچ کے دوران محسن نقوی سے ہونے والی گفتگو ایک پیشہ ورانہ نوعیت کی تھی اور اس پر بلاوجہ تنقید نہیں ہونی چاہیے۔
اس سے قبل دیواجیت سائیکا نے بھی اپنے بیان میں تصدیق کی تھی کہ بی سی سی آئی نے میچ سے پہلے ہی اے سی سی کو اپنے اس مؤقف سے آگاہ کر دیا تھا کہ اگر محسن نقوی تقریب میں موجود ہوئے تو بھارتی کھلاڑی ٹرافی کی تقریب میں حصہ نہیں لیں گے۔ یہ پالیسی مئی 2025 میں پاک بھارت فوجی کشیدگی کے بعد سے بھارتی کرکٹ بورڈ کی طرف سے اختیار کی گئی ہے، جس کے تحت بھارتی ٹیمیں روایتی مصافحے سے گریز کرتی ہیں اور اہم مقابلوں میں پاکستانی حکام سے ٹرافی وصول نہیں کرتیں۔ مینز ایشیا کپ کے دوران بھی ایسا ہی دیکھنے میں آیا تھا جہاں بھارتی ٹیم نے ٹرافی لینے سے انکار کیا تھا اور اب خواتین کے ایشیا کپ میں بھی اس پالیسی پر سختی سے عمل درآمد کیا گیا ہے۔