LIVE
Loading Breaking News...

پاکستان میں حیاتیاتی تنوع کی فنانسنگ اور معاشی اہمیت

News Image
پاکستان کو اپنی معاشی ترقی اور استحکام کے لیے قدرتی وسائل اور حیاتیاتی تنوع میں فنانسنگ بڑھانے کی اشد ضرورت ہے۔ ماہرین کے مطابق ماحولیاتی بہتری سے نہ صرف زرعی پیداوار میں اضافہ ہوگا بلکہ ملک کو پائیدار معاشی مستقبل بھی ملے گا۔
پاکستان کو اس وقت جن اہم معاشی اور ماحولیاتی چیلنجز کا سامنا ہے، ان میں حیاتیاتی تنوع کی فنانسنگ اور قدرتی وسائل کا تحفظ سرفہرست ہیں۔ حالیہ معاشی تجزیوں اور رپورٹس کے مطابق، پاکستان کی معیشت کا بڑا دارالحدار زراعت اور قدرتی وسائل پر ہے، جس کا مطلب ہے کہ ماحول کی بہتری کے بغیر معاشی استحکام کا خواب پورا نہیں ہو سکتا۔ اگر قدرت اور ماحولیاتی نظام میں خاطر خواہ سرمایہ کاری نہ کی گئی تو زرعی پیداوار میں کمی اور موسمیاتی تبدیلیوں کے منفی اثرات سے ملکی معیشت کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔ حکومت اور نجی شعبے دونوں کو مل کر ماحولیاتی فنانسنگ کے نئے ذرائع تلاش کرنے ہوں گے۔ حیاتیاتی تنوع کے تحفظ سے نہ صرف جنگلات اور آبی وسائل کی حفاظت ہوتی ہے بلکہ ملک میں پائیدار روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوتے ہیں۔ بین الاقوامی سطح پر بھی اس بات پر زور دیا جا رہا ہے کہ ترقی پذیر ممالک کو گرین فائন্যান্স اور ماحولیاتی فنڈز تک آسان رسائی دی جائے تاکہ وہ اپنے قدرتی اثاثوں کو بچا سکیں۔ پاکستان جیسے ملک کے لیے، جو موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے، یہ سرمایہ کاری کسی لگژری کے بجائے ایک بنیادی ضرورت کی حیثیت رکھتی ہے۔ ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ اگر بروقت حکمت عملی کے تحت فنانسنگ کے عمل کو بہتر بنایا جائے تو اس سے طویل مدت میں ملکی زرمبادلہ کے ذخائر اور جی ڈی پی پر بہت اچھے اثرات مرتب ہوں گے۔ اس سلسلے میں پالیسی سازوں کو ایسے مالیاتی ماڈلز متعارف کروانے چاہئیں جو ماحول دوست منصوبوں کی حوصلہ افزائی کریں اور نجی سرمائے کو بھی اس شعبے کی طرف راغب کریں۔