World
باب المندب صورتحال پر ٹرمپ کی پالیسی: مشیر کا بیان
نئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشیر نے کہا ہے کہ وہ باب المندب کی کشیدہ صورتحال کو انتہائی تحمل اور دانشمندی کے ساتھ حل کریں گے۔ اس بیان سے عالمی سطح پر خطے میں سکیورٹی اور سمندری تجارت کے حوالے سے نئی امیدیں پیدا ہو گئی ہیں۔
واشنگٹن: نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایک قریبی مشیر نے حال ہی میں اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ باب المندب کی اسٹریٹجک گزرگاہ پر پیدا ہونے والی صورتحال سے بہت تحمل اور دانشمندی کے ساتھ نمٹے گی۔ عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل کے لیے اس اہم سمندری راستے کی طویل عرصے سے جاری کشیدگی نے بین الاقوامی برادری کو تشویش میں مبتلا کر رکھا ہے۔ مشیر کے مطابق، ٹرمپ کی خارجہ پالیسی کا مقصد خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھانے کے بجائے سفارتی اور اسٹریٹجک ذرائع سے پائیدار امن قائم کرنا ہے۔ باب المندب بحیرہ احمر کو خلیج عدن اور بحر ہند سے ملانے والی ایک انتہائی حساس آبی گزرگاہ ہے جہاں سے دنیا بھر کا ایک بڑا تجارتی قافلہ گزرتا ہے۔ حالیہ مہینوں میں اس خطے میں ہونے والی سکیورٹی کی تبدیلیوں نے عالمی معیشت اور توانائی کی سپلائی لائنز کو متاثر کیا ہے، جس پر امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی گہری نظر ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کی ممکنہ حکمت عملی میں طاقت کے غیر ضروری استعمال کے بجائے فریقین کے ساتھ مذاکرات اور علاقائی استحکام کو ترجیح دی جا سکتی ہے۔ مشیر کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بین الاقوامی سطح پر بحیرہ احمر اور باب المندب کی سکیورٹی کے حوالے سے مختلف قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں۔ اگرچہ اس حوالے سے تفصیلی لائحہ عمل کا اعلان حلف برداری کے بعد ہی متوقع ہے، لیکن ابتدائی اشارے بتاتے ہیں کہ واشنگٹن اس نازک معاملے پر کسی بھی قسم کی جلد بازی سے گریز کرے گا تاکہ عالمی معیشت کو مزید جھٹکوں سے محفوظ رکھا جا سکے۔