LIVE
Loading Breaking News...

سعودی عرب کی تیل پائپ لائن کی بحالی، امریکی توانائی کے سربراہ کا بیان

News Image
امریکہ کے توانائی کے سربراہ نے کہا ہے کہ یمن میں جاری لڑائی اور حملوں سے متاثر ہونے والی سعودی عرب کی اہم تیل پائپ لائن کو چند دنوں میں دوبارہ کھول دیا جائے گا۔ اس خلل کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔
امریکہ کے توانائی کے اعلیٰ عہدیدار کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کی اہم تیل پائپ لائن کو، جو حالیہ کشیدگی اور حملوں کی زد میں آنے کے بعد بند کر دی گئی تھی، آئندہ چند دنوں کے اندر مکمل طور پر بحال کر دیا جائے گا۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں بالخصوص یمن کے تناظر میں لڑائی جاری ہے اور بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق سیٹلائٹ تصاویر سے اس اہم پائپ لائن کو پہنچنے والے بڑے نقصانات کی تصدیق بھی ہو چکی ہے۔ یاد رہے کہ اس پائپ لائن کی بندش کی وجہ سے سعودی عرب کو توانائی کی ترسیل میں نمایاں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ حالیہ حملوں اور اس کے نتیجے میں یانبو (Yanbu) کے مقام پر تیل کی ترسیل میں خلل پڑنے کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ نیویارک ٹائمز اور رائٹرز سمیت بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق تیل کی قیمتوں میں تین ڈالر فی بیرل تک کا اضافہ دیکھا گیا ہے جبکہ کارگو کی منسوخی کے واقعات بھی سامنے آئے ہیں۔ توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال عالمی معیشت اور توانائی کی سپلائی چین کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے، جس پر عالمی رہنما گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ امریکہ اور دیگر مغربی ممالک اس بحران سے نمٹنے کے لیے متعلقہ حکام کے ساتھ قریبی رابطے میں ہیں۔ امریکی توانائی کے سربراہ کا یہ بیان کہ پائپ لائن جلد کام شروع کر دے گی، منڈیوں کے لیے ایک پرسکون پیغام کی حیثیت رکھتا ہے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگر پائپ لائن کی بحالی کا یہ عمل وقت پر مکمل ہو جاتا ہے تو اس سے تیل کی قیمتوں میں ہونے والے اضافے کو روکنے میں مدد ملے گی اور عالمی منڈی میں استحکام واپس آئے گا۔ مستقبل کے حوالے سے خدشات اب بھی برقرار ہیں کیونکہ خطے میں سکیورٹی کے مسائل اور تنازعات مکمل طور پر حل نہیں ہوئے۔ سعودی عرب کی تیل تنصیبات پر حملے اور اس کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال نے دنیا بھر کو ایک بار پھر توانائی کے تحفظ کے حوالے سے سوچنے پر مجبور کر دیا ہے۔ حکومتیں متبادل ذرائع اور سپلائی کے تحفظ کے لیے ہنگامی بنیادوں پر لائحہ عمل تیار کر رہی ہیں تاکہ آئندہ ایسے کسی بھی بحران سے مؤثر انداز میں نمٹا جا سکے۔