LIVE
Loading Breaking News...

اگست میں گاڑیوں کی فروخت میں نمایاں کمی اور ٹیکس مسائل

News Image
برقی اور ہائبرد گاڑیوں کے ٹیکس سے متعلق پالیسی میں غیر یقینی صورتحال کے باعث اگست کے دوران کاروں کی فروخت میں واضح کمی ریکارڈ کی گئی۔ صنعت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومتی پالیسیوں میں واضح ابہام کی وجہ سے خریدار محتاط رویہ اپنائے ہوئے ہیں۔
پاکستان کی آٹو موبائل انڈسٹری کو حالیہ دنوں میں شدید چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، جہاں اگست کے مہینے میں گاڑیوں کی فروخت میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ مارکیٹ ذرائع کے مطابق برقی اور ہائبرد گاڑیوں پر عائد ہونے والے ٹیکسز سے متعلق حکومتی پالیسی میں ابہام اور غیر یقینی صورتحال نے خریداروں کو گश کش میں مبتلا کر رکھا ہے۔ صارفین کی جانب سے نئی گاڑیوں کی خریداری میں شدید احتیاط برتی جا رہی ہے کیونکہ وہ ٹیکس ڈھانچے میں ممکنہ تبدیلیوں کا انتظار کر رہے ہیں۔ اس پالیسی ویکیوم کی وجہ سے ڈیلرز اور مینوفیکچررز کو بھی کاروباری سرگرمیوں میں مشکلات کا سامنا ہے۔ دوسری جانب، حالیہ رپورٹس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ مالی سال کے ابتدائی مہینوں میں مجموعی اعداد و شمار ملے جلے رجحانات کا اظہار کرتے ہیں۔ جہاں بعض مخصوص برانڈز اور ماڈلز نے مارکیٹ کے مجموعی رجحان کے خلاف جاتے ہوئے بہتری دکھائی ہے، وہیں مجموعی شعبے پر گہرے بادل منڈلا رہے ہیں۔ معروف آٹو انڈسٹری کے اعداد و شمار کے مطابق چند کار ساز اداروں کی فروخت میں حیرت انگیز اضافہ بھی دیکھا گیا، تاہم مجموعی مارکیٹ کا ماحول غیر یقینی صورتحال کی زد میں ہے۔ ماہرین معاشیات کا ماننا ہے کہ جب تک حکومت برقی اور ہائبرد گاڑیوں کے حوالے سے طویل المدتی اور واضح ٹیکس پالیسی متعارف نہیں کرواتی، اس وقت تک اس صنعت میں مستقل بحالی کی توقع کرنا مشکل ہوگا۔ حکومت اور متعلقہ وزارتوں پر زور دیا جا رہا ہے کہ وہ آٹو سیکٹر کے اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورت کر کے فوری طور پر ٹیکس کے معاملات کو سلجھائیں تاکہ انڈسٹری کو مزید نقصانات سے بچایا جا سکے۔ پاکستان میں گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی قیمتیں پہلے ہی عام خریدار کی پہنچ سے دور ہو چکی ہیں، اور ایسے میں ٹیکس کی غیر یقینی صورتحال نے اس شعبے کی مشکلات کو مزید دوچند کر دیا ہے۔ کار ساز کمپنیوں نے بھی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ معاشی استحکام کے لیے آٹو پالیسی کو زیادہ سازگار اور شفاف بنائے۔ آنے والے مہینوں میں اس بات کا انحصار اسی امر پر ہوگا کہ پالیسی ساز کس طرح اس بحران سے نمٹنے کے لیے موثر اقدامات اٹھاتے ہیں۔