LIVE
Loading Breaking News...

ایچ بی او میکس کا ریڈٹ اکاؤنٹ ہائیک، خطرناک میل وورٹائزنگ مہم کا انکشاف

News Image
نامعلوم حملہ آوروں نے مقبول اسٹریمنگ پلیٹ فارم ایچ بی او میکس کے آفیشل ریڈٹ اکاؤنٹ پر قبضہ کر کے بڑے پیمانے پر نقصان دہ اشتہاری مہم چلائی۔ اس حملے کے دوران صارفین کو جعلی کیپچا اور کلک فکس تکنیک کے ذریعے خطرناک انفارمیشن اسٹیلر وائرس کا نشانہ بنایا گیا۔
حالیہ چند دنوں میں سائبر سیکیورٹی کے حوالے سے ایک انتہائی تشویشناک واقعہ سامنے آیا ہے جہاں نامعلوم حملہ آوروں نے معروف اسٹریمنگ پلیٹ فارم ایچ بی او میکس (HBO Max) کے آفیشل ریڈٹ اکاؤنٹ کو کامیابی کے ساتھ ہائی جیک کر لیا۔ اس ہائی جیکنگ کے بعد ہیکرز نے اس اکاؤنٹ کو مسلسل اڑتالیس گھنٹوں تک ایک وسیع پیمانے پر میل وورٹائزنگ (malvertising) مہم چلانے کے لیے استعمال کیا، جس کا بنیادی مقصد معصوم صارفین کو نقصان دہ سافٹ ویئر ڈاؤن لوڈ کرنے پر مجبور کرنا تھا۔ سیکیورٹی ماہرین کے مطابق اس حملے کے ذریعے ایک بڑے پیمانے پر پیسٹ سوئچ کلک فکس (PasteSwitch ClickFix) آپریشن کو فروغ دیا جا رہا تھا، جو ریڈٹ صارفین کے لیے ایک بڑا خطرہ بن گیا۔ مہم کے دوران صارفین کو مختلف جعلی اشتہارات دکھائے گئے جو بظاہر قانونی معلوم ہوتے تھے لیکن حقیقت میں وہ انتہائی خطرناک میل وئر پر مشتمل تھے۔ اس پیچیدہ سائبر حملے کی تکنیکی تفصیلات بتاتے ہوئے ماہرین نے انکشاف کیا ہے کہ ہیکرز نے ونڈوز اور میک (Mac) دونوں سسٹمز کے صارفین کو نشانہ بنایا۔ اس مقصد کے لیے کلک فکس نامی حملوں کی ایک نئی قسم کا استعمال کیا گیا، جن میں جعلی کیپچا (CAPTCHAs) اور دھوکہ دہی کے دیگر طریقوں کے ذریعے صارفین کو اس بات پر آمادہ کیا گیا کہ وہ لاعلمی میں اپنے ہی کمپیوٹرز کو ہیک کر لیں۔ جب صارفین نے جعلی توثیقی مراحل کو پورا کرنے کی کوشش کی تو پس منظر میں انفارمیشن اسٹیلر (InfoStealers) قسم کا میل وئر خود بخود انسٹال ہو گیا، جو صارفین کے ذاتی ڈیٹا، پاس ورڈز اور مالیاتی معلومات کو چرا سکتا ہے۔ اس طریقے نے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا ہے کہ کس طرح بڑے برانڈز کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کو کمپرومائز کر کے عام انٹرنیٹ صارفین کو دھوکہ دیا جا سکتا ہے۔ اس واقعے کے منظر عام پر آنے کے بعد ریڈٹ اور ایچ بی او میکس کی تکنیکی ٹیموں نے فوری طور پر مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے متاثرہ اکاؤنٹ کا کنٹرول واپس حاصل کر لیا اور تمام نقصان دہ اشتہارات کو ہٹا دیا۔ تاہم، ماہرین کا کہنا ہے کہ اس دو روزہ مہم کے دوران ہزاروں صارفین ان جعلی اشتہارات کی زد میں آ چکے ہوں گے۔ سیکیورٹی اداروں نے اس بات کی شدید تشویش کا اظہار کیا ہے کہ جعلی کیپچا اور سوشل انجینئرنگ کے ایسے جدید طریقے اب انتہائی تیزی سے مقبول ہو رہے ہیں، جنہیں پکڑنا روایتی اینٹی وائرس سسٹمز کے لیے بھی مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ موجودہ صورتحال کے پیش نظر سائبر سیکیورٹی کے ماہرین نے تمام انٹرنیٹ صارفین کو مشورہ دیا ہے کہ وہ آن لائن براؤزنگ کے دوران بالخصوص سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر کسی بھی غیر معمولی اشتہار، پاپ اپ یا کیپچا پر کلک کرنے سے گریز کریں۔ آن لائن سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے ضروری ہے کہ مشکوک لنکس کو فوری طور پر رپورٹ کیا جائے اور اپنے سسٹمز پر اپ ڈیٹ شدہ سیکیورٹی سافٹ ویئر کا استعمال کیا جائے تاکہ اس قسم کے انفارمیشن اسٹیلر حملوں سے بروقت بچاؤ ممکن ہو سکے۔