LIVE
Loading Breaking News...

فلم ناذا کے ہدایت کاروں کی حمایت میں فلمی دنیا کا احتجاج

News Image
اسرائیلی وزیر کی جانب سے غزہ پر بنائی جانے والی دستاویزی فلم ناذا کے ہدایت کاروں کی شہریت منسوخ کرنے کی دھمکی کے بعد عالمی اور مقامی فلمی صنعت سراپا احتجاج بن گئی ہے۔ دو سو سے زائد اسرائیلی فلم سازوں سمیت عالمی سطح پر بھی اس اقدام کی سخت مذمت کی جا رہی ہے۔
بین الاقوامی فلمی دنیا اور اسرائیلی فلم سازوں کی ایک بڑی تعداد نے غزہ میں ہونے والی ہلاکتوں پر بنائی جانے والی متنازع دستاویزی فلم 'ناذا' (NAZA) کے ہدایت کاروں کے حق میں آواز بلند کی ہے۔ یہ ردعمل اس وقت سامنے آیا جب ایک اسرائیلی وزیر کی جانب سے فلم سازوں کی شہریت منسوخ کرنے کی دھمکی دی گئی اور اسرائیلی ڈیفنس فورسز (IDF) کے چیف نے اس فلم کے خلاف قانونی کارروائی اور لیک ہونے والے مواد کی تحقیقات کا حکم دیا۔ اس صورتحال نے عالمی سطح پر اظہارِ رائے کی آزادی اور فنکاروں کے حقوق کے حوالے سے ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔ برطانوی اخبار گارڈین اور دیگر بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق، دو سو سے زائد اسرائیلی فلم سازوں نے کھلے عام ناذا کے تخلیق کاروں کی حمایت کا اعلان کیا ہے اور حکومتی دھمکیوں کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ فلمی صنعت کے نامور افراد کا کہنا ہے کہ کسی بھی باشعور انسان کو اس قسم کی دھمکیوں کی مذمت کرنی چاہیے کیونکہ یہ فن اور سچائی کو دبانے کی ایک ناکام کوشش ہے۔ ناقادوں کے مطابق، یہ دستاویزی فلم زمینی حقائق کو اجاگر کرتی ہے جسے ریاستی دباؤ کے ذریعے چھپانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ دوسری جانب، اسرائیلی فوج اور حکومت کی طرف سے اس دستاویزی فلم اور اس کے مبینہ لیک ہونے والے مواد پر شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔ فوج کے اعلیٰ حکام اس بات کی تحقیقات کر رہے ہیں کہ فلم میں استعمال ہونے والا حساس مواد باہر کیسے آیا۔ اس تمام کشیدگی کے دوران، عالمی فلمی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیمیں متاثرہ ہدایت کاروں کی پشت پر کھڑی ہیں اور مطالبہ کر رہی ہیں کہ فنکاروں کو سچ بولنے اور اپنے خیالات کا اظہار کرنے کی مکمل آزادی دی جائے۔