Business
واٹر کمپنیوں کیخلاف شکایات میں 84 فیصد اضافہ، بلوں میں ہوشربا اضافہ وجہ
برطانیہ میں واٹر کمپنیوں کے خلاف صارفین کی شکایات میں 84 فیصد کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ بیشتر شکایات بلوں میں ہونے والے ہوشربا اضافے اور ادائیگی کی استطاعت سے متعلق ہیں۔
برطانیہ سمیت مختلف ممالک میں یوٹیلیٹی اور واٹر کمپنیوں کے خلاف صارفین کے غصے میں شدید اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق واٹر کمپنیوں کے خلاف موصول ہونے والی شکایات کی تعداد میں اکیانوے فیصد نہیں بلکہ چوراسی (84) فیصد تک کا ریکارڈ اضافہ ہوا ہے۔ اس صورتحال نے صارفین اور ریگولیٹری اداروں دونوں کے لیے سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں، کیونکہ عوام پہلے ہی مہنگائی کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق ان میں سے بیشتر شکایات پانی کے بلوں میں کیے جانے والے اچانک اور شدید اضافے کے گرد گھومتی ہیں۔ صارفین کا کہنا ہے کہ وہ اپنے بنیادی گھریلو اخراجات پورے کرنے میں بھی مشکلات کا شکار ہیں، ایسے میں پانی کے بلوں میں ہونے والے بھاری اضافے نے ان کی مالی پریشانیوں میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ بہت سے شہریوں نے بلوں کی ادائیگی کی استطاعت نہ ہونے پر براہ راست واٹر واچ ڈاگ اور متعلقہ نگران اداروں سے رجوع کیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ واٹر کمپنیوں کی جانب سے بنیادی ڈھانچے کی بہتری اور دیگر اخراجات کا بوجھ براہ راست عام صارفین پر ڈالا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے عوامی حلقوں میں سخت بے چینی پائی جاتی ہے۔ صارفین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے حکومت اور ریگولیٹرز سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا ہے تاکہ واٹر کمپنیوں کی मनमानी قیمتوں کو روکا جا سکے اور عوام کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔
نگران اداروں کا کہنا ہے کہ وہ ان شکایات کا سختی سے جائزہ لے رہے ہیں اور کمپنیوں پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ وہ اپنی سروسز کے معیار کو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ بلوں میں شفافیت لائیں۔ اگر صورتحال پر قابو نہ پایا گیا تو آنے والے دنوں میں عوامی احتجاج میں مزید شدت آ سکتی ہے، کیونکہ بنیادی سہولیات کی قیمتوں میں اضافہ عوام کے لیے ناقابل برداشت ہوتا جا رہا ہے۔