AI
مصنوعی ذہانت اور خواتین کی توہین: اے آئی اشتہارات پر پابندی
اشتہاری نگران ادارے نے مصنوعی ذہانت کی ایسی تمام ایپس کے اشتہارات پر سخت پابندی عائد کر دی ہے جو خواتین کی جسمانی نمائش یا تذلیل کا باعث بنتی ہیں۔ ریگولیٹر نے واضح کیا ہے کہ اس قسم کے غیر اخلاقی مواد کے خلاف زیرو ٹالیرنس کی پالیسی اپنائی جائے گی۔
مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی میں تیزی سے ہونے والے اضافے کے ساتھ جہاں مثبت رجحانات سامنے آ رہے ہیں، وہیں اس کے کچھ منفی اور غیر اخلاقی استعمال نے عالمی سطح پر تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ حال ہی میں اشتہارات کے نگران ادارے نے ایک انتہائی اہم اور سخت قدم اٹھاتے ہوئے ایسی تمام مصنوعی ذہانت (اے آئی) ایپس کے اشتہارات پر پابندی عائد کر دی ہے جو خواتین کی تذلیل، جنسی تشہیر یا ان کے جسمانی استحصال کا سبب بنتی ہیں۔ یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب مختلف ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر ایسی اے آئی ایپس کی تشہیر میں اضافہ دیکھا گیا جو خواتین کی تصاویر کو غیر اخلاقی اور تضحیک آمیز طریقوں سے پیش کر رہی تھیں۔
نگران ادارے کے ترجمان نے اپنے ایک سخت بیان میں واضح کیا ہے کہ ادارے کی ایسی کسی بھی مہم یا اشتہار کے خلاف زیرو ٹالیرنس (Zero-Tolerance) کی پالیسی ہے جو کسی بھی صنف، خصوصاً خواتین کی توہین یا ان کے حقوق کی پامالی کا باعث بنے۔ ان کا کہنا تھا کہ جدید ٹیکنالوجی کا مقصد انسانیت کی فلاح و بہبود اور تخلیقی صلاحیتوں کو اجاگر کرنا ہے، نہ کہ اسے فحاشی، جنسی رنگ دینے یا کسی کی تذلیل کے لیے استعمال کیا جائے۔ ڈیجیٹل مارکیٹ میں بڑھتی ہوئی اس ناپسندیدہ روش کو روکنے کے لیے تمام متعلقہ پلیٹ فارمز کو ہدایات جاری کر دی گئی ہیں کہ وہ اس قسم کے کسی بھی اشتہار کو فوری طور پر ہٹا دیں۔
ماہرینِ معاشیات اور ڈیجیٹل حقوق کے علمبرداروں نے نگران ادارے کے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے دور میں خواتین کی ڈیجیٹل سیفٹی اور ان کی عزتِ نفس کا تحفظ انتہائی لازمی ہے۔ اس پابندی سے نہ صرف غیر اخلاقی مواد کی روک تھام میں مدد ملے گی بلکہ کمپنیوں پر بھی دباؤ بڑھے گا کہ وہ ذمہ دارانہ مارکیٹنگ کے اصولوں کو اپنائیں۔ آنے والے دنوں میں ڈیجیٹل اشتہارات کی نگرانی کے نظام کو مزید سخت کرنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے تاکہ مصنوعی ذہانت کے غلط استعمال پر مکمل قابو پایا جا سکے اور معاشرتی اقدار کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔