World
انگلینڈ میں دکانوں سے چوری، 28 ہزار جرائم اور 270 ملزمان کی کہانی
برطانیہ میں دکانوں سے چوری کے بڑھتے ہوئے واقعات پر ایک نئی تحقیقاتی رپورٹ سامنے آئی ہے جس کے مطابق ہزاروں جرائم کے پیچھے چند سو افراد کا ہاتھ ہے۔ یہ انکشاف ملک میں تجارتی تحفظ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر نئے سوالات اٹھاتا ہے۔
برطانیہ میں دکانوں سے چوری کے بڑھتے ہوئے رجحان کے حوالے سے ایک انتہائی چونکا دینے والی تحقیقاتی رپورٹ سامنے آئی ہے۔ نشریاتی ادارے بی بی سی کی جانب سے کیے جانے والے ایک تجزیے سے انکشاف ہوا ہے کہ انگلینڈ بھر میں دکانوں سے چوری کے کم از کم اٹھائیس ہزار چار سو پندره جرائم ایسے ہیں جن کا براہ راست تعلق صرف دو سو ستر افراد سے بنتا ہے۔ اس اعداد و شمار نے ملک بھر میں دکانداروں اور سکیورٹی اداروں کو ہلا کر رکھ دیا ہے کیونکہ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ایک محدود گروہ یا چند سرگرم افراد منظم طریقے سے تجارتی مراکز کو نشانہ بنا رہے ہیں۔
تجزیے کے مطابق یہ شاپ لفٹرز معمولی چوروں کی بجائے پیشہ ورانہ انداز میں جرائم کا ارتکاب کرتے ہیں اور بار بار قانون کو ہاتھ میں لیتے ہیں۔ پولیس اور قانونی ماہرین کے نزدیک یہ صورتحال اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ اگر ان چند سو افراد کو سختی سے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے اور موثر سزائیں دی جائیں تو دکانوں سے چوری کے مجموعی تناسب میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔ تجارتی تنظیموں نے بھی اس رپورٹ پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت اور پولیس سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس ناسور کے خاتمے کے لیے فوری اور ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کریں تاکہ چھوٹے اور بڑے تاجروں کے معاشی نقصانات کو روکا جا سکے۔
دوسری جانب، پولیس حکام کا کہنا ہے کہ دکانوں سے چوری کے بڑھتے ہوئے واقعات سے نمٹنے کے لیے وہ اپنی حکمت عملی میں تبدیلی لا رہے ہیں۔ ریٹیل سیکٹر سے وابستہ افراد کا ماننا ہے کہ چوری کی ان وارداتوں سے نہ صرف معاشی نقصان ہوتا ہے بلکہ عملے کی حفاظت اور ذہنی سکون بھی بری طرح متاثر ہوتا ہے۔ اس تناظر میں، بی بی سی کی اس تحقیقات نے ایک بار پھر برطانوی معاشرے میں بڑھتے ہوئے جرائم کے سدباب کے لیے مربوط پالیسی بنانے کی ضرورت کو اجاگر کر دیا ہے، جس پر اب سنجیدگی سے غور کیا جا رہا ہے۔